پولیس تشدد یا طبعی موت،ایک اور قیدی ہلاک

پولیس تشدد یا طبعی موت،ایک اور قیدی ہلاک
Stay tunned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(سٹی42)پولیس حراست میں ایک اور ملزم دم توڑ گیا ہے۔ غازی آباد پولیس سٹیشن کی حوالات میں بند قیدی پراسرار طور پر ہلاک ہوگیا.

پولیس کے مطابق ملزم محمد بوٹا ہربنس پورہ کا رہائشی تھا اور جوڈیشل ونگ نے عدم ریکارڈ کی وجہ سے متوفی کو تھانہ غازی آباد کی حوالات میں بند کروایا تھا۔ تیس سالہ محمد بوٹا تشدد سے ہلاک ہوا یا طبعی موت مرا تاحال فیصلہ نہ ہو سکا۔ پولیس کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ ملزم طبعی موت مرا ہے تاہم اعلیٰ حکام نے واقعہ کا نوٹس لے لیا ہے اور متعلقہ حکام سے رپورٹ بھی طلب کرلی ہے۔ پولیس نے حوالات کی سی سی ٹی وی فوٹیجز کی مدد سے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

آئی جی پنجاب انعام غنی نے تھانہ غازی آباد پولیس کی حراست میں ملزم کی مبینہ ہلاکت کے واقعہ کا نوٹس لے لیا،سی سی پی او لاہور سے واقعہ کی رپورٹ طلب کرلی اورذمہ داران کے خلاف بلا تاخیر محکمانہ و قانونی کاروائی کا حکم دے دیا۔

واضح رہے کہ پولیس گردی کے واقعات میں اضافہ ہورہا ہے حکام بالا نے بھی اس پر تاحال کو ایکشن نہیں لیا، پولیس اہلکاروں کا عوام کے ساتھ نارواسلوک اس بات کی نشاندہی کررہا ہے کہ عوام کو اب پولیس سے بھی خوف آنے لگا ہے،لوگوں کے مال وجان کے محافظ ہی خون کے پیاسے بن چکے ہیں،آئے روز سنگین وارداتیں ہورہی ہیں جن میں سکیورٹی اداروں کے افراد ملوث پائے جاتے اور ان کوسزا دینے کے لئے تاحال قانون نہیں بن سکا کیونکہ بااثر ملزمان بچ جاتے اور بے گناہ قصور وار ٹھہرئے جاتے جو کہ لمحہ فکریہ ہے۔

قبل ازیں تھانہ شاہدہ پولیس کی مبینہ حراست میں 42 سالہ غلام حسین جاں بحق ہوگیا تھا، فیکٹری ملازم پرسامان میں خرد برد کا الزام تھا،لواحقین نےلاش ہسپتال میں رکھ کراحتجاج اورذمہ داروں کےخلاف کارروائی کا مطالبہ کیاتھا، پولیس کی جانب سےلواحقین پر تشدد کیا گیااور زبردستی لاش قبضے میں لے کرتھانےمنتقل کردی گئی تھی۔ 

مقتول کےبیٹےکا کہنا تھا کہ والد 5 روز سےلاپتہ تھے،3 روز قبل سگیاں پولیس چوکی سےشاہدرہ پولیس سٹیشن منتقل کیا گیا،جہاں ان پر دوران حراست تشدد کیا جاتا رہا۔