"جو ملک کیخلاف بات کرے، اس کو ریلیف نہیں دوں گا"

لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس
Chief Justice Qasim Khan

ملک اشرف: غداری مقدمہ، لیگی رہنماء جاوید لطیف کی مقدمہ کے اخراج کی درخواست پر سماعت، چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے ریمارکس دئیے کہ پہلے ملک کیخلاف بات کرتے ہیں،پھر اسی ملک کی عدالت سے ریلیف لینے آجاتے ہیں، جو ملک کیخلاف بات کرے اس کو ریلیف نہیں دونگا، حب الشخصی کرنی ہےتو ملک چھوڑ کر چلےجائیں۔

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ محمد قاسم خان نے لیگی رہنما جاوید لطیف کی جانب سے غداری مقدمہ کے اخراج کی درخواست پر سماعت کی۔ جاوید لطیف اپنے وکیل سید فرہاد علی شاہ کے ہمراہ عدالت پیش ہوئے۔ چیف جسٹس نے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ بتائیں کیا مقدمہ ہے۔ ایف آئی آر پڑھ کر سنائیں۔ 

وکیل نے کہا درخواست گزار کے موقف کو نظر انداز کرکے غداری کا مقدمہ درج کیا گیا، سرکار کی اجازت کے بغیر ملک کیخلاف غداری کا مقدمہ درج نہیں ہوسکتا۔ چیف جسٹس محمد قاسم خان نے ریمارکس دیئے کسی کی کیسے جرات ہوسکتی ہے کہ پاکستان کیخلاف بات کرے، شخصیات آتی جاتی رہتی ہیں، ملک نے قائم رہنا ہے۔ شخصیات نہیں ملکی آئین اہم ہے۔

چیف جسٹس نے مزید کہا جو کچھ درخواستگزار نے کہا کیا یہ حب الوطنی ہے یا حب الشخصی ہے۔ پاکستان کی اسمبلیوں میں حلف لینے والے اپنے گریبان میں جھانکیں، درخواست گزار پاکستان چھوڑ دیں، کسی اور ملک کی شہریت لے لیں۔ پاکستان کھپے کا نعرہ نہ لگانے والوں کو لوگ چیونٹیوں کی طرح مسل دیں گے۔

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے ریمارکس دیئے کہ جو شحض ملک کیخلاف بات کرے اس کو ریلیف نہیں دونگا، پہلے ملک کیخلاف بات کرتے پھر اسی ملک کی عدالتوں سے ریلیف لینے آجاتے ہیں۔ چیف جسٹس نے درخواست واپس لینے کی بناء پر نمٹا دی۔