کریمینل ریکارڈ پر 6 انچارج انویسٹی گیشن معطل

Incharge Investigation
Incharge Investigation

لوئر مال (عابد چودھری) ایس ایچ اوز کے بعد انچارج انویسٹی گیشنز کی بھی شامت آ گئی، کرپشن اور کریمینل ریکارڈ پر 6 انچارج انویسٹی گیشنز معطل، 12 کو لائن حاضر کر دیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق ڈی آئی جی شارق جمال خان نے 6 انچارج انویسٹی گیشن کو معطل کر دیا، معطل ہونے والوں  میں انچارج انویسٹی گیشن مغلپورہ جاوید حسین، انچارج انویسٹی گیشن نواں کوٹ قمر ساجد، انچارج انویسٹی گیشن داتا دربار محمد حسین، انچارج انویسٹی گیشن سول لائنز آصف علی، انچارج انویسٹی گیشن سٹی رائیونڈ عدنان مسعود، انچارج انویسٹی گیشن گلشن راوی واجد جہانگیر شامل ہیں۔ 

انچارج انویسٹی گیشن بھاٹی گیٹ سجاد حیدر، انچارج انویسٹی گیشن سمن آباد شاہد اصغر، انچارج انویسٹی گیشن ملت پارک جاوید اقبال، انچارج انویسٹی گیشن چوہنگ عمر دراز، انچارج انویسٹی گیشن ہڈیارہ محمد نفیس، انچارج انویسٹی گیشن مناواں مختیار علوی، انچارج انویسٹی گیشن ریس کورس صابر علی، انچارج انویسٹی گیشن فیصل ٹاؤن تیمور ملک، انچارج انویسٹی گیشن گلبرگ عدنان بخاری، انچارج انویسٹی گیشن گڑھی شاہو عابد حسین، انچارج انویسٹی گیشن غازی آباد ریاست علی اور انچارج انویسٹی گیشن نصیر آباد ظہیر الدین بابر کولائن حاضر کیا گیا۔

علاوہ ازیں کریمنل کیسز والے گزیٹڈ پولیس افسر بھی آئی جی پنجاب کے ریڈار پر آگئے، ایس ایچ اوز کو ہٹائے جانے کے بعد اب کریمینل ریکارڈ رکھنے والے ڈی ایس پیزاور اوپر کے افسروں کی بھی باری آگئی۔آئی جی پنجاب انعام غنی نے صوبہ بھر کے گزیٹڈ پولیس افسروں کے کریمینل کیسز کا ریکارڈ طلب کر لیا۔مراسلے کے مطابق کریمنل کیسسز والے پولیس افسروں کو ہرصورت تفصیلات بذریعہ ای میل اور فیکس بھجوانے کی ہدایت کی گئی۔