اورنج ٹرین میں افسوسناک واقعہ

( فہد علی ) اورنج ٹرین انتظامیہ کے ناقص سیکورٹی انتظامات، سمن آباد اسٹیشن اورنج لائن ٹرین میں دو گروپوں کی لڑائی، فیملیز اور بچے خوف زدہ ہوگئے۔

سمن آباد اسٹیشن پر اورنج لائن ٹرین میں دو منچلے گروپ آپس میں الجھ پڑے۔ ٹرین کے اندر ہی ایک دوسرے پر لاتوں اور گھونسوں کی بارش کرتے رہے۔ چھٹی کا روز ہونے کے باعث ٹرین میں رش زیادہ تھا، لڑائی کے باعث ٹرین میں موجود فیملیز اور بچوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔

واضح رہے گزشتہ ماہ وزیراعلیٰ پنجاب نے اورنج لائن ٹرین منصوبےکا افتتاح کیا تھا۔ اورنج ٹرین کے ٹریک پر آنے سے نہ صرف شہریوں کو صاف ستھری سفری سہولیات میسر ہیں بلکہ ٹریفک کے دباؤ میں کمی سے آلودگی پر قابو پانے میں مدد مل رہی ہے۔کنٹریکٹ کے مطابق یہ منصوبہ صرف ستائیس ماہ کے دوران دو ہزار سترہ میں مکمل ہونا تھا۔ منصوبے کیلئے ایک سو پینسٹھ ارب کا تخمینہ لگایا گیا تھا جو بڑھ کر تین سو ارب تک جا پہنچا۔

اورنج لائن ٹرین کے لیے 27.12 کلومیٹر کا ٹرین ٹریک لاہور میں ڈیرہ گجراں سے شروع ہو کر علی ٹاؤن سٹیشن پر اختتام پزیر ہوتا ہے، جس دوران ٹرین کا گزر ودھا، اسلام باغ، سلامت پورہ، محمود بوٹی، پاکستان منٹ، شالیمار گارڈنز، باغبان پورہ، یو ای ٹی، لاہور ریلوے سٹیشن، لکشمی چوک، جی پی او، انارکلی، چوبرجی، گلشن راوی، سمن آباد، بند روڈ، صلاح الدین روڈ، شاہ نور، سبزہ زار، اعوان ٹاؤن، واحدت روڈ، ہنجروال، کینال، ٹھوکر نیاز بیگ اور علی ٹاؤن سے ہو گا۔