فنڈز کی قلت، فضائی آلودگی سے بچاؤ کا منصوبہ ٹھپ

فنڈز کی قلت، فضائی آلودگی سے بچاؤ کا منصوبہ ٹھپ

مال روڈ (علی رامے) لاہور میں فضائی آلودگی کا راج، سابق دورِ حکومت کا فضائی آلودگی سے بچاؤ کا منصوبہ بھی ٹھپ، فضائی آلودگی سے بچاؤ کیلئے مانیٹرنگ سنٹر کا قیام کاغذوں میں ہی رہ گیا، پنجاب حکومت نے ایک ارب کے منصوبے کیلئے ایک روپیہ نہ دیا۔

 لاہوری آلودہ فضا کی زد میں ہیں، حکومت نے ایک ارب روپے مالیت کے میگا منصوبے کو ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا، لاہور سمیت صوبہ بھرمیں ایک ارب سے نئے مانیٹرنگ سنٹر بنائے جانا تھے، لیکن ذرائع پی اینڈ ڈی بورڈ کے مطابق اس منصوبے کیلئے ابھی تک کوئی فنڈ جاری نہیں ہوئے، منصوبے کا مقصد یہ تھا فضا میں آلودگی کے تناسب کی جانچ پڑتال کرنا تھا جس کے لیے غیر ملکی بینکوں سے بھی قرض لیا گیا لیکن موجود حکومت عدم دلچسپی کے باعث یہ منصوبہ اب تک کاغذوں تک ہی محدود ہے ۔

دوسری جانب سموگ کے باعث لاہور سمیت پنجاب بھرمیں زگ زیگ ٹیکنالوجی پر منتقل نہ ہونے والے متعدد بھٹہ خشت بند کر دیئے گئے، ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ بندش کی خلاف ورزی کرنے والے بھٹہ مالکان کیخلاف کارروائی ہوگی، پنجاب میں بھٹوں کی کل تعداد 7 ہزار 332 ہے جن میں سے صرف 648 بھٹے ابھی تک زگ زیگ ٹیکنالوجی پر منتقل ہو سکے ہیں۔

ضلعی انتظامیہ کے مطابق لاہور ڈویژن میں 165 بھٹے ہیں جن میں سے صرف 51 بھٹے زگ زیگ ٹیکنالوجی پر منتقل ہوسکے ہیں۔ حکومت کی طرف سے سموگ کے پیش نظر زگ زیگ ٹیکنالوجی کے بغیر چلنے والے بھٹے7 نومبر سے 31 دسمبرتک بند رکھے جائیں گے۔

 واضح رہے کہ ہر سال دنیا بھر میں فضائی آلودگی 70لاکھ افراد کی اموات کی وجہ بنتی ہے، ان میں 6 لاکھ  15 سال سے کم عمر بچے ہوتے ہیں۔