سی آئی اے کی ازسر نو تنظیم سازی کا فیصلہ

سی آئی اے کی ازسر نو تنظیم سازی کا فیصلہ

کوئنز روڈ (عرفان ملک) جرائم کو کنٹرول کرنے کیلئے سی آئی اے کی ازسر نو تنظیم سازی کا فیصلہ، سی آئی اے کے سابق افسروں اور اہلکاروں کو ایک بار پھر سی آئی اے میں تعینات کرنے کیلئے لسٹیں بننے لگیں۔

گزشتہ روز سی سی پی او عمر  شیخ نے شہر میں بڑھتے ہوئے کرائم کو کنٹرول کرنے کیلئے سی آئی اے پولیس کے ساتھ اجلاس بلایا تھا جس میں فیصلہ کیا گیا کہ پرانے سی آئی اے کے اہلکاروں اور افسروں کو واپس لایا جائے گا، سی سی پی او نے افسروں کو عندیہ دے دیا کہ سی آئی اے کی پرانی ٹیم کو سی آئی اے میں لگایا جائے گا جس کیلئے سو سے زائد افسروں اور اہلکاروں کی لسٹیں تیار کی جائیں گی۔

  لاہور پولیس میں سی آئی اے کی چھ ڈویژن میں اس وقت تین ڈویژن ایسی ہیں جہاں ڈی ایس پیز کی سیٹیں خالی ہیں اور انسپکٹر ڈی ایس پی کے عہدے پر کام کر رہے ہیں جس کی وجہ سے پولیس کی کارکردگی بھی متاثر ہو رہی ہے۔

علاوہ ازیں سربراہ لاہور پولیس محمد عمرشیخ کی زیرصدارت اعلیٰ سطحی کا اجلاس ہوا، ڈی آئی جی انویسٹی گیشن شہزادہ سلطان اور ڈی آئی جی آپریشنز اشفاق احمد خان کی شرکت کی قبضہ گروپوں، منشیات فروشوں اور جوا خانوں کیخلاف کریک ڈاؤن کا جائزہ لیا گیا۔ سی سی پی او نے سٹریٹ کرائمز، بینکوں کے باہر ڈکیتی کی وارداتوں اور ہاٹ اسپاٹ ایریاز میں کرائم کا بھی جائزہ لیا۔

سی سی پی او کا کہنا تھا کہ منشیات کے دھندے میں ملوث بڑے مگر مچھوں پر ہاتھ ڈالا جائے، ڈویژنل افسر 30 نومبر تک جوا خانوں کے خاتمے کی رپورٹ پیش کریں، فرائض میں غفلت، اختیارات سے تجاوز اورجرائم پیشہ افراد کی پشت پناہی پر معطل ہونے والوں کی بلیک لسٹ تیار ہے۔

  سی سی پی او لاہور نے سپاہ کی ویلفیئر کو یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ تمام یونٹس میں الگ الگ ویلفیئر افسر تعینات کیے جائیں، اہلکاروں کی میڈیکل انشورنس کیلئے میکانزم بنایا جائے، سی سی پی او لاہور نے بیماری میں مبتلا وارڈن طارق کو ایک لاکھ رو پے کا امدادی چیک دینے کا اعلان کیا۔