بے گھر ،بے آسرا افراد نے حکومت سے اہم مطالبہ کردیا

بے گھر ،بے آسرا افراد نے حکومت سے اہم مطالبہ کردیا
City42 - Footpath, Lahore, Homeless people slept

(حسن خالد) لاہور میں عارضی پناہ گاہوں کے باوجود درجنوں بے گھر افراد شناختی کارڈ نہ ہونے پر ٹھٹھرتی سردی میں سڑکوں پہ سونے پر مجبور  ہیں،بے آسرا افراد نے حکومت سے  پناہ گاہوں سے متعلق بنائی جانے والی پالیسیوں پر نظر ثانی کی اپیل کردی۔

حکومت پاکستان کی جانب سے بے گھر افراد کے لیے مستقل پناہ گاہیں بننے سے پہلے شامیانے لگا کر عارضی پناہ گاہیں بنائی گئیں تاکہ بے گھر اور بے آسرا افراد ٹھٹھرتی سردی میں فٹ پاتھوں پر سونے کی بجائے ان عارضی پناہ گاہوں میں قیام کریں۔ مگرعارضی پناہ گاہوں کے باوجود اکثر لوگ ٹھٹھرتی سردی میں کھلے آسمان تلے سونے پر مجبور ہیں۔

داتا دربار اور اسکے اطراف میں تاحال درجنوں لوگ فٹ پاتھوں پر سوئے دکھائی دیتے ہیں، ان افراد میں جہاں ایک طبقہ نشے کی لت میں مبتلا افراد کا ہے وہیں ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو کسی نہ کسی مجبوری کے تحت عارضی پناہ گاہوں میں نہیں سوتا۔ کچھ افراد کا کہنا تھا کہ شناختی کارڈ نہ ہونے کی وجہ سے انہیں عارضی پناہ گاہ میں سونے نہیں دیا جاتا اس لیے فٹ پاتھ پر ہی گزارہ کرتے ہیں۔ذرائع کے مطابق ان عارضی پناہ گاہوں میں زیادہ سے زیادہ تین دن تک قیام کیا جاسکتا ہے، جس کے بعد مسافر کو پناہ گاہ سے رخصت کردیا جاتا ہے۔ 

بے آسرا افراد نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ پناہ گاہوں سے متعلق بنائی جانے والی پالیسیوں پر نظر ثانی کی جائے تاکہ اس سہولت سے زیادہ سے زیادہ بے گھر افراد مستفید ہوسکیں۔

بےگھر افراد کا کہنا ہے کہ پناہ گاہوں میں ہماری جیبیں کاٹ لی جاتی ہیں۔جس کی وجہ سے ہم فٹ پاتھوں پر ہی سو کر اپنی راتیں بسر کرنے پر مجبور ہیں۔کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ ہمیں پتا ہی نہیں کہ پناہ گاہیں کہا ں پر بنائی گئی ہیں اگر ہمیں پتا ہو تو ہم بھی پناہ گاہوں کا رخ کریں۔