پی آئی سی حملہ،پنجاب حکومت نے وکلاء کی ضمانت منسوخی کیلئے اپیل دائر کردی

پی آئی سی حملہ،پنجاب حکومت نے وکلاء کی ضمانت منسوخی کیلئے اپیل دائر کردی

(یاور ذوالفقار)پنجاب حکومت نے پی آئی سی ہسپتال حملہ کیس کے 8 ملزمان کی ضمانت منسوخی کیلئےلاہور ہائیکورٹ سے رجوع کرلیا ۔

تفصیلات کے مطابق گزشتہ سال 2019ء کےآخر میں وکلاء اور ڈاکٹروں میں تصادم ہوا، وکلاء نے  پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی پر دھاوابولا اور مرکزی دروازے کو توڑ کر اندر داخل ہوگئے،ہسپتال میدان جنگ بن گیا،ہنگامی صورت حال کے پیش نظر رینجرز کو طلب کیا گیا،وکلاء کء توڑ پھوڑ کی ، پولیس کی گاڑی نذر آتش کی گئی، نعرے بازی شروع کر دی، جس سے مریض ہسپتال میں محبوس ہو کر رہ گئے، پولیس نے وکلا کو منتشر کرنا چاہا تو وکیلوں نے پتھراؤ شروع کر دیا ۔

پولیس نے متعدد وکلاء کو گرفتار بھی کیا، ان میں وزیراعظم عمران خان کا بھانجا حسان نیازی میں ملوث پایا گیا، حسان نیازی کی گرفتاری کے لئے پولیس نے متعدد بار چھاپے مارے مگر وہ گرفتار نہ ہوسکے،ایک طرف ڈاکٹروں کا دباؤ اور مخالفین نے پی آئی سی پر حملہ کرنے والوں کی گرفتاری عمل میں لانے کا مطالبہ کیا،ڈیڑھ سو سے زائد گاڑیاں اور موٹر سائیکل قبضے میں لے لئے ینگ ڈاکٹرز نے ہسپتالوں میں او پی ڈیز بند کرنے کا اعلان کر دیاگیا تھا۔

حکومت نے نوٹس لیتے ہوئے متعدد وکلاء کو گرفتار کیا جن میں سے بااثر وکلاء کو رہا کردیا گیا، حسان نیازی، سید زین عباس،علی جاوید، عبدالمجید، مزمل حسین، عابد حسین ناز، اسامہ معاذ اور نعیم قمر کو بھی رہا کردیا گیا تھا،اب پنجاب حکومت نے وزیراعظم عمران خان کے بھانجے حسان نیازی سمیت 8 ملزمان کی ضمانت منسوخی کیلئےلاہور ہائیکورٹ میں اپیل دائر کر دی ہے۔

درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ملزمان نے 100 سے زائد دیگر ساتھی وکلا کیساتھ مل کر پی آئی سی پر حملہ کیا تھا ،وکلاء نے ڈنڈوں اور سوٹوں سے لوگوں کو تشدد کا نشانہ بنایا اور توڑ پھوڑ کی تھی ،درخواست میں مزیدکہاگیاکہ انسداد دہشتگری عدالت نےحقائق کونظر اندازکرکےملزمان کی ضمانتیں منظور کی ہیں۔

پی آئی سی پر حملے سے متعدد مریض جان سے گئے اور ان کا علاج متاثر ہوا تھا، درخواست میں استدعا کی گی ہے کہ عدالت پی آئی سی حملے کے ملزمان کی ضمانتیں منسوخ کرنے کا حکم دے۔