میٹروپولیٹن کارپوریشنز کی ناقص کارکردگی کا پول کھل گیا

میٹروپولیٹن کارپوریشنز کی ناقص کارکردگی کا پول کھل گیا

(راؤ دلشاد) میونسپل سروسز کی عدم فراہمی، آوارہ کتوں کا خاتمہ ہوا نہ ہی ویسٹ مینجمنٹ کی کارکردگی بہتر ہوسکی، وزیراعلیٰ پنجاب پانچ میٹروپولیٹن کارپوریشنز کی کارکردگی سے نالاں، سیکرٹری بلدیات پنجاب ڈاکٹراحمد جاوید قاضی کے ایڈمنسٹریٹرز اور چیف کارپوریشن آفیسرز کو جاری کیے گئے مراسلے میں انکشاف۔

محکمہ بلدیات نے پنجاب کے پانچ بڑے شہروں میں سالڈ ویسٹ اور آوارہ کتوں کی بھرمار پر میٹروپولیٹن کارپوریشنز کی ناقص کارکردگی کا پول کھول دیا، انٹیلی جنس بیوروکی رپورٹ کے مطابق لاہور، فیصل آباد، گجرانوالہ، ملتان اور راولپنڈی میں خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے گئے، رپورٹ پر وزیر اعلیٰ پنجاب نے نوٹس لیتے ہوئے احکامات جاری کیے تھے، جس کے باوجود آوارہ کتوں اور سالڈ ویسٹ کو مناسب اندازمیں ٹھکانے لگانے کے لیے تسلی بخش اقدامات نہ کیے جاسکے، محکمہ بلدیات نے پانچ شہروں کے چیف آفیسرز اور ایم ڈی ویسٹ مینجمنٹ کمپنیز کو مراسلہ جاری کردیا۔

مراسلے میں چیف آفیسرز اور ویسٹ مینجمنٹ کمپنیز کو اپنی کارکردگی بہتر کرنےکی ہدایت کی گئی، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ اور کارپوریشنز قوانین لاگو کرنے میں ناکام رہے، افسراور ملازمین بھی ویسٹ کےخاتمےکےعمل سےلاعلم ہیں۔

لاہور کو سالانہ صفائی کی مد میں 14 ارب روپے جبکہ میٹروپولیٹن کارپوریشن کا خطیر بجٹ ہونے کے باوجود کارکردگی حوصلہ افزا نہیں، لاہور، فیصل آباد، گوجرانوالہ، ملتان اور راولپنڈی کو سالانہ صفائی کی مد میں 40 ارب روپے فراہم کیے جا رہے ہیں۔

مراسلے میں کہا گیا ہے کہ صفائی کمپنیز میں ویسٹ ٹیکنیکل افرادی قوت لگانا لازم قرار دیا جائے، ایم ڈی لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی راؤ امتیاز نے 50 میں سے 22 نااہل زونل افسران کو تبدیل کیا، تاہم کتا مار مہم اور میونسپل سروسز کی فراہمی میں بھی متعلقہ اداروں کی کارکردگی حوصلہ افزا نہیں۔

Sughra Afzal

Content Writer