سرعام پھانسی ،مہوش حیات بھی بول پڑیں

سرعام پھانسی ،مہوش حیات بھی بول پڑیں

سٹی 42: قومی اسمبلی میں  زیادتی کرنے والے ملزموں کو سرِ عام پھانسی پر لٹکانے کی قرار داد کیا منظور ہوئی کہ سوشل میڈیا پر ایک بحث چھڑ گئی ہے،کچھ صارفین قرارداد کے حق میں بول رہے ہیں تو کچھ مخالفت کررہے ہیں،ساتھ دینے اور مخالفت کرنیوالوں کی اپنی اپنی منطق ہے،سیاستدانوں کے ساتھ شوبز شخصیات بھی اس بحث کا حصہ بن رہی ہیں۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز قومی اسمبلی میں بچوں کے ساتھ زیادتی کے مجرموں کو سرعام پھانسی کی قرارداد متفقہ طور پر منظور کی گئی جسے وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان نے پیش کیا تھا۔پی ٹی آئی کے رہنما اور وفاقی وزیر  فواد چوہدری نے اپنے سوشل میڈیا بیان میں بچوں کے ساتھ زیادتی کے ملزمان کو سرِعام پھانسی کی قرارداد کی مذمت کی اور کہا کہ اس طرح کے قوانین تشدد پسندانہ معاشروں میں بنتے ہیں اور یہ انتہا پسندانہ سوچ کی عکاسی کرتا ہے، بربریت سے آپ جرائم کے خلاف نہیں لڑ سکتے ہیں۔

فواد چوہدری کے علاوہ وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری نے بھی بچوں سے زیادتی کے ملزمان کو سرعام پھانسی دینے کی قرارداد کی مخالفت کی ہے، ساتھ ہی اپوزیشن جماعت پیپلز پارٹی نے بھی سخت مذمت کی ہے البتہ مسلم لیگ (ن) نے اس قرارداد کی حمایت کی ہے۔

پی ٹی آئی رہنما ئوں کے جواب میں تمغہ امتیاز حاصل کرنے والی پاکستانی اداکارہ مہوش حیات نے زیادتی کرنے والے ملزموں کو سرِ عام پھانسی پر لٹکانے کے بل کی مخالفت کرنے والوں کو  جواب دیتے ہوئے بل کی حمایت کی ہے۔ مہوش حیات سماجی مسائل کے حوالے سے اکثر اوقات اپنی رائے کا اظہار سوشل میڈیا پر کرتی ہیں اور اس بار اداکارہ سرِ عام پھانسی کی مخالفت کرنے والوں پر برہم ہوگئیں۔کہتی ہیں کہ عجیب سی بات ہے کہ ہمارے بچوں کے ساتھ زیادتی اور ان کے قتل کے کیسز رپورٹ ہورہے ہیں اور ہم کہتے ہیں قصور واروں کو سرِ عام پھانسی دی جائے، اب جب حکومت ایسا کر رہی ہے تو ہم انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے پیچھے چھپ رہے ہیں۔

اداکارہ  نے مزید لکھا کہ بدقسمتی سے ہمیں معاشرے میں رائج اس روش کو روکنے کے لیے مضبوط عزم کی ضرورت ہے۔

Azhar Thiraj

Senior Content Writer