ماضی کے مقبول گلوکار و نعت خواں جنید جمشید کو اس دنیا سے گزرے 3برس بیت گئے

ماضی کے مقبول گلوکار و نعت خواں جنید جمشید کو اس دنیا سے گزرے 3برس بیت گئے

 (زین مدنی ) ماضی کے مقبول گلوکار و نعت خواں جنید جمشید کو اس دنیا سے گزرے 3برس بیت گئے، جنید جمشید کو2007 میں دنیا کی 500 بااثرمسلم شخصیات میں شامل کیا گیا جبکہ سن 2014 میں انہیں حکومت کی جانب سے تمغہ امتیاز سے بھی نوازا گیا تھا۔

تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز ماضی کے مقبول گلوکار و نعت خواں جنید جمشید کو اس دنیا سے گزرے 3برس بیت گئے، جنید جمشید کو2007 میں دنیا کی 500 بااثرمسلم شخصیات میں شامل کیا گیا جبکہ سن 2014 میں انہیں حکومت کی جانب سے تمغہ امتیاز سے بھی نوازا گیا تھا۔ جنید جمشید 7دسمبر 2016 کو پی آئی اے کے اس بد قسمت طیارے میں سوار تھے جو چترال سے اسلام آباد آتے ہوئے حویلیاں کے قریب حادثے کا شکار ہوا تھا۔

اس سانحہ کے نتیجے میں طیارے کے عملے سمیت48 افراد جاں بحق ہوئے تھے،52سالہ جنید اپنی اہلیہ کے ہمراہ چترال میں تبلیغی دورے کے بعد اسلام آباد جا رہے تھے۔1987 میں ریلیز ہونے والے گیت دل دل پاکستان نے خاص طور پر جنید جمشید کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا تھا۔  ان کے بینڈ کو پاکستانی پنک فلوائڈ کے نام سے بھی یاد کیا جاتا تھا بعد ازاں وائٹل سائنز کے فرنٹ مین کے طور پر چار اسٹوڈیو البمز کی کامیابی کے بعد انہیں اپنے سولو کیریئر میں بھی خاصی شہرت حاصل ہوئی۔

جنید جمشید کی 1999 میں ریلیز کی گئی دوسری سولو البم کے کئی گیت اس دور کے سپر ہٹس میں شامل ہیں تاہم 2002 میں اپنی چوتھی اور آخری پاپ البم کے بعد اسلامی تعیلمات کی جانب ان کا رجحان بڑھنے لگا اور ماضی کے پاپ اسٹار ایک نعت خواں کے طور پر ابھرتے نظر آئے۔ یہی وہ وقت تھا جب جنید جمشید نے گلوکاری کو خیرباد کہہ دیا اور مذہب کی تبلیغ اور حمد و نعت سے وابستہ ہوگئے اور ہمیں محمد کا روضہ قریب آرہا ہے اور میرا دل بدل دے جیسی خوبصورت نعتیں سننے کو ملیں، نعت خوانی اور اپنے ملبوسات کے برانڈ سمیت جنید جمشید گزشتہ برسوں میں ماہ رمضان کی خصوصی نشریات اور پروگراموں میں بطور میزبان بھی نمایاں رہے۔

جنید جمشید لاہور میں واقع یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی سے فارغ التحصیل تھے، انہوں نے موسیقی کے کیریئر کا آغاز میوزک بینڈ وائٹل سائنز سے کیا اور پہلے البم کی ریلیز نے ہی اس بینڈ اور اس کے مرکزی گلوکار جنید جمشید کو شہرت کی ایسی بلندیوں تک پہنچایا جس کی مثال آج بھی ملنا مشکل ہے۔