نیا چیف سیکرٹری پنجاب اور چیلنجز

نیا چیف سیکرٹری پنجاب اور چیلنجز

(قیصر کھوکھر) میجر (ر) اعظم سلیمان خان نے چیف سیکرٹری پنجاب کا چارج سنبھال کر کام شروع کر دیا ہے اور سیاسی قیادت نے انہیں مکمل طور پر فری ہینڈ دے دیا ہے اور انہوں نے بڑے پیمانے پر بیوروکریسی کی اکھاڑ پچھاڑ بھی کر دی ہے, انہوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ گڈ گورننس ، سروس ڈلیوری اور محکموں کی استعداد کار بڑھانے پر کام کریں گے۔

انہوں نے کہا ہے کہ وہ بیوروکریسی کو کرپشن فری کریں گے، عوام کی سرکاری دفاتر تک رسائی یقینی بنائیں گے اور عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دیں گے۔ چیف سیکرٹری نے افسر شاہی کے پہلے اجلاس میں تمام افسران کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے دروازے عوام کے لئے کھلے رکھیں اور پبلک سروس کو اولین ترجیح دیں۔

چیف سیکرٹری نے اشیاءخورونوش کی قیمتوں میں اضافہ کا نوٹس لیا ہے اور مہنگائی کی روک تھام کے لئے اجلاس شروع کر دیئے ہیں۔ چیف سیکرٹری نے پرائس کنٹرول مجسٹریٹ کو متحرک کیا ہے اور ڈی سی کو روزانہ کی بنیاد پر منڈیوں کے دورے کرنے اور اشیاءکی قیمتوں کو چیک کرنے کا ٹاسک دیا ہے۔ چیف سیکرٹری نے افسران کو کام کرنے کی مکمل آزادی دی ہے اور ساتھ ساتھ ان کا محاسبہ کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔

چیف سیکرٹری نے کہا ہے کہ ہر افسر کی کارکردگی ماہانہ بنیاد پر جانچی جائے گی اور جو کام نہیں کرے گا وہ اپنے عہدہ پر نہیں رہے گا۔ چیف سیکرٹری نے افسران کو ہدایت کی ہے کہ ان کے مثبت کام نظر آنا چاہئےں اور اداروں کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لئے شفافیت کو فروغ دیں اور کسی بھی کام میں کوئی بھی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی اور یہ کہ تمام افسران اوپن ڈور پالیسی کو اپنائیں۔ چیف سیکرٹری نے اپنا وژن اور اپنی پالیسی افسران کو دے دی ہے اور ہدایت کی ہے کہ اس پر سختی سے عمل کیا جائے ،کرپشن اور سروس ڈلیوری پر زیرو ٹالرینس ہوگی۔

میجر (ر) اعظم سلیمان خان ایک بہترین اور شاندار کیریئر کے حامل افسر ہیں وہ مختلف اسامیوں اور مختلف پوزیشنوں پر کام کر چکے ہیں اور یہ کہ انہیں مختلف حکومتوں کے ساتھ کام کرنے کا وسیع تجربہ ہے۔ انہیں مسلم لیگ قاف، فوجی حکومت، مسلم لیگ نون اور اب وہ پی ٹی آئی کی حکومت کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ وہ سیاسی رہنماﺅں کو ڈیل کرنے کا تجربہ بھی رکھتے ہیں ۔ وہ اپنے سینئر افسران اور جونیئرز میں یکساں مقبول ہیں۔ ان کے وفاق کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں۔ امن و امان اور پولیس کے ساتھ ورکنگ کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔ وہ چیف سیکرٹری سندھ بھی رہ چکے ہیں۔ ہر افسر کو وہ باریک بینی سے جانتے ہیں۔ فاسٹ کیریئر کے حامل افسر ہونے کے ناطے انہوں نے بڑے احسن طریقے سے پنجاب میں افسران کی اکھاڑ پچھاڑ کرکے پبلک ڈیلنگ والے اداروں اور محکموں میں بہترین کیریئر کے حامل افسران کو تعینات کیا ہے۔

انہوں نے پنجاب کے مالی اور انتظامی معاملات کو بہتر کرنے پر کام شروع کر دیا ہے ۔ فوجی بیک گراﺅنڈ رکھنے کے حوالے سے ان کے فوجی اداروں کے ساتھ بھی بہترین تعلقات ہیں۔ لیکن ساتھ ساتھ پنجاب میں انہیں بڑے پیمانے پر چیلنجز کا بھی سامنا ہے۔ سب سے بڑا چیلنج دفاتر کو عوام کے لئے کھولنا اور افسران کو عوام کا خادم بنانا ہے کیونکہ ضلع اور تحصیل کی سطح کے دفاتر عوام کے لئے نو گو ایریا بن چکے ہیں ، بیوروکریسی دفاتر میں نہیں ملتی ہے اور عوام بے چارے اپنے جائز کاموں کے لئے ان دفاتر کے باہر بیٹھے رہتے ہیں،اور ان کی کوئی شنوائی نہیں ہوتی ہے۔

پنجاب میں اچھا کام کرنے والے افسران کی کمی ہے اور چند گریڈ 21اور گریڈ 22 کے افسران برا جمان ہیں جنہیں خاموشی سے واپس اسلام آباد اوردوسرے صوبوں میں پنجاب کا ڈومیسائل رکھنے والے ینگ بلڈ افسران کو پنجاب لانا بھی حکومت پنجاب کی ضرورت ہے۔ میجر (ر) اعظم سلیمان خان کو اپنی ایک ٹیم بھی بنانی ہے کیونکہ اس وقت زیادہ تر وہ افسران ہیں جو مسلم لیگ نون کے حامی ہیں یا وہ مسلم لیگ نون کی حکومت کے ساتھ بڑی قربت کے ساتھ کام کرتے رہے ہیں۔

ایک افسر اسی وقت اچھا کام کرتا ہے جب اسے اپنے سینئر کی مکمل آشیربادحاصل ہوتی ہے ۔ چیف سیکرٹری اعظم سلیمان خان نے اس حوالے سے افسران کو فری ہینڈ دے دیا ہے۔ اور پی ٹی آئی کی حکومت نے بھی چیف سیکرٹری کو افسر شاہی کے معاملات میں فری ہینڈ اور مکمل آزادی دے دی ہے اور افسران آج اعظم سلیمان خان کے ساتھ بہتر اور سکون محسوس کرتے ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان کا یہ اچھا فیصلہ ہے کہ انہوں نے چیف سیکرٹری پنجاب اور آئی جی پولیس کو مکمل اختیارات دے دیئے ہیں اور وزیر اعلیٰ پنجاب کو نصیحت کی ہے کہ وہ چیف سیکرٹری اور آئی جی پولیس کے معاملات میں مداخلت نہ کریں۔

شاید یہی وجہ ہے کہ وزیر اعلیٰ سردار عثمان بزدار کے انتہائی قریبی رشتہ دار بھی ان کے دور حکومت میں کھڈے لائن لگا دیئے گئے ہیں ۔ ایک افسر اسی وقت اچھا کام کرتا ہے جب اسے ہر قسم کے دباﺅ سے پاک رکھا جاتا ہے اور چیف سیکرٹری اور آئی جی پولیس اسی وقت ڈلیور کریں گے جب انہیں سیاسی قیادت فری ہینڈ دے گی جب انتظامی اور آپریشنل معاملات میں وزیر اعلیٰ اور وزراءمداخلت نہیں کریں گے۔

چیف سیکرٹری میجر (ر) اعظم سلیمان خان ایک مضبوط چیف سیکرٹری کے طور پر آئے ہیں اور جس طرح انہوں نے اپنی نئی پالیسی کا اعلان کیا ہے اس سے یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ پنجاب میں انتظامی معاملات بہتر ہونگے اور عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل ہونے کے ساتھ ساتھ عوام اور افسران کے درمیان موجود خلیج ختم ہو کر رہ جائے گی۔

قیصر کھوکھر

سینئر رپورٹر