ایل ڈی اے افسروں کے تقرروتبادلے کے احکامات جاری

ایل ڈی اے افسروں کے تقرروتبادلے کے احکامات جاری

(در نایاب) لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ڈائریکٹرجنرل احمد عزیز تارڑ نے تین افسروں کے تقرروتبادلے کے احکامات جاری کردئیے۔

حکومت پنجاب کی طرف سے ڈیپوٹیشن پر آنے والے افسر محمد عامر نذیر کوڈائریکٹرلینڈ ایکوزیشن تعینات کر دیا ہے۔ ڈائریکٹوریٹ آف لینڈ ڈویلپمنٹ ٹو میں تعینات اسسٹنٹ ڈائریکٹر شبیر احمد کو تبدیل کر کے ڈائریکٹوریٹ آف اسٹیٹ مینجمنٹ ٹو میں اسٹیٹ افسر لگا دیا گیا۔ ڈائریکٹوریٹ آف اسٹیٹ مینجمنٹ ایونیو ون میں تعینات اسسٹنٹ ڈائریکٹر محمد جہانگیرا قبال خان کا تبادلہ کر کے ان کی خدمات ایم ڈی واسا کے سپر دکر دی ہیں۔

دوسری جانب ایل ڈی اے میں نظم و ضبط کی دھجیاں بکھیرنا معمول بن گیا ،  اسسٹنٹ ڈائریکٹر ایل ڈی اے کو زدو کوب اور گھر کے باہر ہوائی فائرنگ کے معاملے پر اسسٹنٹ ڈائریکٹر کے بھائی نے ڈائریکٹر ایل ڈی اے احمد ممتاز کے خلاف اندراج مقدمہ کی درخواست دے دی۔

اسسٹنٹ ڈائریکٹر ایل ڈی اے جہانگیر اقبال میو کو شکایت مہنگی پڑگئی ہے ۔ جونئیر افسر کو سینئیر افسر احمد ممتاز کے خلاف اندراج مقدمہ کی درخواست دینے پر تبادلے کا سامنا کرنا پڑا ہے ۔ جہانگیر اقبال میو کو سینئیر افسر کے خلاف شکایت کرنے پر ایل ڈی اے بدر کردیا گیاہے ۔ گزشتہ روز احمد ممتاز نے جہانگیر میو کو مبینہ طور پر گھر جاکر زدوکوب کیا ۔ اندراج مقدمہ کی درخواست کے مطابق سرکاری افسر کو جان سے مارنے کی کوشیش اور گھر کے باہر ہوائی فائرنگ کی ۔ جہانگیر اقبال کے بھائی جنید نے تھانہ مسلم ٹاون میں اندراج مقدمہ کی درخواست دے دی ہے ۔

ایل ڈی اے کے دونوں افسر سرکاری رہائش گاہ میں اوپر نیچے فلورز پر رہائش پذیر بھی ہیں ۔ ذرائع کے مطابق اے ڈی جی ہیڈ کوارٹر اور ڈائریکٹر ایڈمن نے جہانگیر کا موقف سنے بغیر واسا تبادلہ کرادیا گیا ۔ اسسٹنٹ ڈائریکٹر ایل ڈی اے جہانگیر اقبال میو نے ویڈیو آڈیو کلپ بطور ثبوت پیش کردیا ۔ اس سے قبل خاتوں افسر نے احمد ممتاز کی خلاف ہراساں کرنے کی درخواست بھی دی تھی۔ واقعہ سے ایل ڈی اے میں افسران کی جانب سے بدنظمی کے معاملات سے سینئیر افسران بھی عدم تحفظ کا شکار ہے ۔ ڈائریکٹر احمد ممتاز کا موقف ہے کہ ان کا فائرنگ کے معاملے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔