وزیراعظم کے16 مشیران خاص کی تقرریوں کیخلاف درخواست سماعت کیلئے مقرر

 وزیراعظم کے16 مشیران خاص کی تقرریوں کیخلاف درخواست سماعت کیلئے مقرر

(ملک اشرف) لاہور ہائیکورٹ نے وزیراعظم عمران خان کے16 مشیران خاص کی تقرریوں کے خلاف درخواست سماعت کے لیے مقرر کردی، چیف جسٹس ہائیکورٹ قاسم خان 10 اگست کو کیس کی سماعت کریں گے۔

درخواستگزار نے مشیروں کی تقرری کا نوٹیفکیشن درخواست کے ساتھ لف کردیا، آفس ہائی کورٹ نے نوٹیفکیشن درخواست کے ساتھ نہ لگانے پر اعتراض لگایا تھا، درخواست میں وزیر اعظم، وزارت قانون، ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ، شہزاد اکبر اور ڈاکٹر ظفر مرزا سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے۔

درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نہ تو رکن اسمبلی اور نہ ہی سینیٹ کے ممبر ہیں، مگر انہیں وزارت خزانہ کا قلمدان سونپا گیا ہے، آئین کے آرٹیکل 92 کے تحت وزیراعظم کی سفارش پرصرف رکن اسمبلی ہی وفاقی وزیر کےعہدے پر مقرر کیا جاسکتا ہے، غیرمنتخب افراد ریاست کے اختیارات کا استعمال نہیں کرسکتے، وفاقی کابینہ میں غیر منتخب افراد کو شامل کرنا عمران خان کی اپنے فرائض منصبی پر پورا نہ اترنے کے مترادف ہے.

درخواست میں مزید موقف اختیار کیا گیا کہ وزیراعظم کےدوہری شہریت کے حامل مشیران خاص ریاست پاکستان کیلئے سکیورٹی رسک ہیں، ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ، عبدالرزاق داﺅد، امین اسلم، ڈاکٹر عشرت حسین اور ڈاکٹر بابر اعوان بھی مشیروں میں شامل ہیں، محمد شہزاد ارباب، مرزا شہزاد اکبر، سید شہزاد قاسم، ڈاکٹر ظفر مرزا اور معید یوسف کو بھی وزیراعظم نے اپنا مشیر مقرر کر رکھا ہے، زلفی بخاری، ندیم بابر، ڈاکٹر ثانیہ نشر، ندیم افضل گوندل اور شہباز گل بھی مشیروں میں شامل ہیں۔

درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ عدالت منتخب اراکین اسمبلی کو وفاقی وزراء کےعہدوں پر تعینات کرنے کا حکم دے، حتمی فیصلے تک وزیر اعظم کے تمام غیر منتخب مشیران خاص کو فوری کام سے روکا جائے۔