قتل یا حادثہ: خواجہ سراء کی پر اسرار ہلاکت

death of transgender in Lahore
Transgender

فہد علی:دس دنوں میں دو خواجہ سراؤں کی پر اسرار ہلاکت، نشتر کالونی میں کمرے سے خواجہ سرا کی جلی ہوئی لاش ملی۔ چند روز قبل شفیق آباد کے علاقے سے بھی خواجہ سرا کی پھندہ لگی لاش برآمد ہوئی، جس کی تحقیقات تاحال مکمل نہ ہو سکی ۔

تفصیلات کے مطابق خودکشی یا قتل کا معاملہ، نشتر کالونی کے علاقے آصف ٹاؤن میں کمرے سے خواجہ سرا ارسلان عرف چنوں کی جلی ہوئی لاش ملی ہے۔ خواجہ سرا چنوں تقریبات میں رقص کر کے گزر بسر کرتا تھا۔خواجہ سرا ارسلان کی لاش جس کمرے سے ملی اس کے تینوں دروازے بند تھے۔ ورثا کے مطابق چنوں کی گردن پر رسی کے نشان بھی دیکھے گئے۔

پولیس کا مزید کہنا تھا کہ جائے وقوعہ سے فرانزک ٹیموں نے شواہد اکٹھے کر لئے ہیں۔ خواجہ سرا کی لاش مردہ خانے منتقل کر دی گئی ہے۔ چند روز قبل شفیق آباد کے علاقے سے بھی پینتیس سالہ بوبی نامی خواجہ سرا کی پھندہ لگی لاش ملی تھی جس کی تحقیقات تاحال مکمل نہیں ہو سکیں۔

پولیس کا کہنا ہے دونوں واقعات کی تفتیش جاری ہے۔

قبل ازیں نامعلوم افراد کی جانب سے خواجہ سرا نینا کو پروگرام سے آتے ہوئے تشدد کا نشانہ بنایا گیا،خواجہ سرانینا کی غیر اخلاقی ویڈیو بنائی اور نینا کے بال بھی کاٹے گئے۔ خواجہ سرا نینا گزشتہ روز اپنی دوستوں کے ہمراہ پارٹی کے لئے گئی تھی جہاں سے واپسی پر اسے اغوا کرکے زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔

صدرخواجہ سراء ایسوسی ایشن  فرزانہ  نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ نامعلوم افراد نے خواجہ سراء نینا اغواء کیا،خواجہ سراء نینا کے بال کاٹ کر گنجا کردیا، موبائل سےغیراخلاقی ویڈیو بنائی گئیں، نینا کے بال کاٹے تشدد کیا گیالیکن پولیس نے روزنامچہ پر ٹرخا دیا، حکومت سے انصاف کا مطالبہ ہے۔

حکومت نے کئی پالیسیاں بنائی لیکن عمل نہیں کیا جاتا، خواجہ سراء کےبال کاٹ دئیےجائیں توسالوں بے روزگارہوجاتا ہے، اب تک 78 خواجہ سرا قتل کیے جا چکے ہیں گزشتہ دو ماہ میں تین واقعات ہو چکے ہیں تاہم حکومت صرف دعوئوں اور وعدوں تک محدودہے۔