شاہی قلعہ کے خفیہ مقامات کی تلاش کیلئے 1 ارب 45 کروڑکا منصوبہ تیار

شاہی قلعہ کے خفیہ مقامات کی تلاش کیلئے 1 ارب 45 کروڑکا منصوبہ تیار

فورٹ روڈ (ریحان گل) والڈ سٹی اتھارٹی نے شاہی قلعہ کے چھپے تہہ خانوں اور مقامات کو ڈھونڈنے کیلئے 1ارب 45 کروڑ کا منصوبہ تیار کر لیا۔ جہانگیر کی خواب گاہ اور شیش محل کے نیچے چھپے مقامات کی تلاش کی جائے گی۔

  والڈ سٹی اتھارٹی کی جانب سے شاہی قلعہ کو اصل شکل میں بحال کرنے اور سیاحوں کی دلچسپی پیدا کرنے کیلئے کام کیا جا رہا ہے تاہم شاہی قلعہ کے بہت سے مخفی مقامات ایسے ہیں جنھیں اب تک تلاش نہیں کیا جا سکا، اس مقصد کیلئے والڈ سٹی اتھارٹی نے 1ارب 45 کروڑ روپے لاگت کا منصوبہ تیار کیا ہے۔ جس کے تحت جہانگیر کی خواب گاہ اور شیش محل کے نیچے تہہ خانوں اور مخفی مقامات کو تلاش کیا جائے گا۔

 اس کے علاوہ دیوان عام اور پرانے اکبری گیٹ کو اصل شکل میں بحال کیا جائے گا، قلعہ میں ایک میوزیم اور ترجمان سنٹر بھی قائم کیا جائے گا، والڈ سٹی اتھارٹی نے منصوبے کا پی سی ون تیار کرکے منظوری کیلئے پنجاب حکومت کو بھجوا دیا ہے۔

 علاوہ ازیں والڈ سٹی اتھارٹی نے شاہی قلعہ کے اطراف کے علاقے کو بفرزون ڈیکلیئر کرتے ہوئے اصل حالت میں بحال کرنے کا منصوبہ بھی تیار کیا ہے، تاہم قلعہ کے عقب میں موجود رم مارکیٹ ختم کرنے کے معاملے پرتاجروں اوراتھارٹی کے مابین ڈیڈ لاک موجود تھا جو ختم ہوگیا، تاجروں نے شاہی قلعہ کے عقب سے رم مارکیٹ منتقل کرنے پر آمادگی ظاہر کردی ہے۔

یادرہے کہ قلعہ لاہور جسے شاہی قلعہ بھی کہا جاتا ہے، لاہور کی شاندار عمارتوں میں سے ایک ہے، اس کی ازسرِنو تعمیر مغل بادشاہ اکبر اعظم (1556ء تا 1605ء) نے کروائی، قلعے کے اندر واقع چند مشہور مقامات میں شیش محل، عالمگیری دروازہ، نولکھا محل اور موتی مسجد شامل ہیں، شاہی قلعہ 1100 فٹ طویل جبکہ 1115 فٹ وسیع ہے، قلعہ لاہور دیکھنے کیلئے ہر روز ہزاروں لوگ آتے تھے، لیکن اب کورونا وائرس کے باعث تاریخی عمارت کو سیاحوں کیلئے بند کردیا گیا۔