شارخ خان نے دلیپ کمار کی قابلیت کا اعتراف کرلیا (سلیم بخاری)

شارخ خان نے دلیپ کمار کی قابلیت کا اعتراف کرلیا (سلیم بخاری)

بقیہ قسط پانچ

دلیپ کمار……دیومالائی اداکار 

فن اداکاری میں ان کی حاکمیت تسلیم شدہ ہے

٭” دیوداس“ میں اداکاری کرکے دلیپ نے نہ صرف اپنا ایک مقام حاصل کیا بلکہ ناقدین نے بھی ان کی عظمت کا اعتراف کیا

”آن“بالی وُڈ کی پہلی رنگین فلم تھی مگر جس فلم میں اداکاری کے جوہر دکھا کر دلیپ کمار فلم بینوں کے دل ودماغ پر چھا گئے وہ 1955ء میں بننے والی بِمل رائے کی فلم” دیوداس“ تھی جو ایک ری میک فلم تھی،اس کی کہانی ایک بنگالی رائٹر سارت چندر(Sarat Chandra) کے ناول سے ماخوذ تھی۔ ” دیوداس“وہ فلم ہے جس میں اداکاری کے ذریعے دلیپ نے نہ صرف اپنا ایک مقام حاصل کیابلکہ ناقدین نے بھی ان کی عظمتوں کا اعتراف کیا۔قارئین کو یاد ہوگا کہ ” دیوداس“کا تیسرا ری میک 2002ء میں سامنے آیا جس میں شاہ رُخ خان نے دلیپ صاحب والارول کیا تھا مگر بمل رائے کی دلیپ کو لیکر بنائی گئی” دیوداس“ کو ہر لحاظ سے بہتر فلم قرار دیا گیا اور اب تو اسے ایک کلاسک فلم کا درجہ حاصل ہے۔ 

٭کوئی دلیپ کی نقالی کر ہی نہیں سکتاجس نے بھی جرأت کی وہ سب میری طرح احمق تھے، شاہ رُخ خان

فروری 2012ء میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے شاہ رُخ خان نے خود تسلیم کیا تھا کہ حتمی دیوداس صرف دلیپ کمار ہی ہیں۔ہرچند کہ شاہ رُخ کی اپنی دیوداس میں اداکاری بھی غیر معمولی نوعیت کی ہے مگر وہ کہتے ہیں کہ میں دلیپ صاحب کے ہم پلہ نہیں ہو سکتا۔جب شاہ رُخ سے ایک صحافی نے پوچھا کہ کیا آپ دیوداس کا کردار کرکے دلیپ کی ہم سری کا دعویٰ کرنا چاہتے تھے تو شاہ رخ نے برجستہ کہا:”کوئی دلیپ کی نقالی کر ہی نہیں سکتا،کوئی ان کی کاپی کرنے کی جرأت نہیں کر سکتا اورجنہوں نے بھی میری طرح یہ کوشش کی وہ سب احمق تھے۔“ یاد رہے کہ بمل رائے کی” دیوداس“ میں دلیپ کے ساتھ وجنتی مالا اور سچتراسین(Suchitra Sen) نے اداکاری کی تھی اورفلمی ناقدین کا خیال ہے کہ یہ کردار اصل کہانی کے قریب ترین تھے۔شاہ رُخ والی دیوداس میں یہی کردارمادھوری ڈکشٹ اور ایشوریہ رائے نے کئے تھے۔شاہ رُخ اور ان دونوں نے غیر معمولی اداکاری کی تھی مگروہ ماحول جس کے پس منظر میں یہ کہانی لکھی گئی تھی تخلیق نہ ہوسکا۔

٭ مکالموں میں اختصار،آواز کا اُتار چڑھاؤ اور چہرے پرتاثرات کا ادل بدلا انہی کاخاصا ہے

 یہ تاثر درجنوں ڈائیلاگ بول کر بھی پیدا نہیں کیا جا سکتا تھا۔ان کی دوسری بڑی خوبی یہ تھی کہ وہ فلم کی ڈبنگ پر بے پناہ توجہ دیتے تھے۔وہ ایک خوبی کے اور بھی مالک تھے کہ مکالموں میں بہت اختصارسے کام لیتے تھے اورلمبے لمبے ڈائیلاگ بولنے سے اجتناب کرتے تھے۔ان کے مقابلے میں راج کپور اودھم مچانے والی حرکات کے مُرتکب ہوتے تھے جبکہ دیوآنند کا سارا فوکس اپنی امتیازی شان پر رہتا تھا۔اس کا ایک مظاہرہ فلم ”انداز“ میں دیکھنے کو ملا۔ دلیپ اور راج نے اپنی اپنی اداکاری کا ہر جوہر استعمال کیا اور ہر سین میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کی،کون جیتا اور کون ہارا؟ اس کا فیصلہ اس سے کیا جا سکتا ہے کہ بالی وُڈ کے فلم سازوں اور ہدایت کاروں نے کبھی ان دونوں اداکاروں کوایک فلم میں کاسٹ نہیں کیا۔ اسی طرح فلم”انسانیت“کے بعد راج نے نہ صرف دھوتی کرتا پہن کر رول کرنا ترک کردیا بلکہ دلیپ صاحب کے ساتھ کام نہ کرنے کا بھی فیصلہ کر لیا مگر اس سب کے باوجود دونوں اداکاروں کے درمیان صحت مند مقابلہ جاری رہا۔نتیجہ یہ نکلا کہ دلیپ کمار بہترین اداکار کے سب سے زیادہ ایوارڈ حاصل کرنے والے فن کار بن گئے۔ دلیپ کمار کھانوں کے بھی بہت ماہر تھے اور اچھّے کھانوں سے ان کی محبت ویسے ہی ہے جیسے وہ ہر ایک خوب صورت چیز سے کرتے ہیں۔ وہ لفظوں کے ماہر کھلاڑی ہیں،الفاظ کو پہلے اپنی زبان پر نچاتے ہیں اور یوں ان کا مزہ لیتے ہیں جیسے کوئی شرابی کسی نایاب وائین کے گھونٹ منہ میں رکھ کر مزہ لیتا ہے۔وہ لفظوں کے پس منظر اور ان کی خوشبو تک سے لطف لیتے ہیں،ان کا لفظوں کو مُنتخب کرنے کا وہی انداز ہے جس طرح کوئی جوہری زیور میں جڑنے کے لئے ہیرا تلاش کرتا ہے۔ 

٭ شعروسخن کیساتھ ان کا گہرا ناطہ ہے،شیخ سعدی اورعمر خیام پسندیدہ شاعر ہیں 

شعروسخن کے ساتھ بھی دلیپ کمار کا ناطہ بہت گہرا ہے۔شیخ سعدی اور عمرخیام ان کے پسندیدہ شاعر ہیں جس کا مطلب یہ ہوا کہ وہ فارسی زبان پر بھی دسترس رکھتے ہیں۔ایک مرتبہ یہ افواہ پھیلی تھی کہ وہ ایک بین الاقوامی فلم میں عمرخیام کا کردارادا کریں گے مگر خود دلیپ کمار نے ہی اس کی نفی کر دی ہاں یہ ضرور کہا تھا کہ وہ اس عظیم صوفی شاعر کا کردار کرنا ضرور چاہیں گے۔اسی طرح چانکیہ اور چندرگپت کے نام سے ایک فلم بننے کا تذکرہ بھی ہوا تھا جس میں دلیپ کمار کوچانکیہ اورامیتابھ بچن کو چندرگپت بننا تھا جبکہ سالیوکس نکاٹر(Seleucus  Nicator) کا کردار دھرمندر کو کرنا تھا۔ ایک فلمی رسالے میں تو دلیپ کی چانکیہ کے مکمّل گیٹ اَپ میں تصویر بھی چھپی تھی۔کاش یہ فلم بنتی تو شاید ”مغل اعظم“سے بھی بڑی فلم ہوتی۔اس فلم میں کردار کرنے کے لئے تو دلیپ کمار نے آدھے سر کے بال بھی منڈوالئے تھے۔ان سے ایک مرتبہ پوچھاگیا کہ انہوں نے معروف انگلش فلم”لارنس آف عریبیا“ میں وہ کردار کرنے سے انکار کیوں کیا جو بعد میں مصری نژاد اداکار عمر شریف نے کیا تھا تو دلیپ کمار نے کہا کہ یہ معمولی نوعیت کا کردار کرنا میری اورمیرے ملک کی شان کے خلاف تھااس لئے میں نے انکار کردیا تھا۔ 

٭سکرپٹ سے مطمئن نہ ہونے پرکروڑوں کی پیشکشیں  ٹھکرادیں،کبھی ناکام اداکار نہیں کہلائے

دلیپ ایسی بہت سی دیگر پیشکشیں مسترد کرنے کے لئے مشہور ہیں جہاں انہوں نے کثیر سرمایہ کی آفر کو درخوراعتناء نہیں سمجھا اورکوئی ایسا کردار قبول نہیں کیا۔انہیں اگر 50 کروڑ روپے بھی پیش کئے جاتے کہ وہ ساڑھی پہن کر ایک گھٹیا گانے پر رقص کریں تو ایسا کبھی قبول نہ کرتے۔انہوں نے تو پروموشن کے اشتہاروں میں کام کرنے سے بھی اکثر گریز کیا اور اگر کبھی کیا بھی تو اس کی رقم اپنی پسند کے کسی خیراتی ادارے کودے دیتے خاص طور پر اندھوں کی بہبود کے لئے ایک ادارے کو۔ فلم” سوداگر“کے حوالے سے کملیش پانڈے کہتے ہیں کہ سبھاش گئی کا سب سے بڑا کارنامہ اس فلم میں دو بڑے اداکاروں دلیپ اورراجکمار کو 28 سال کے بعد اکٹّھا کرنا تھا،اس سے پہلے دونوں نے فلم ”پیغام“میں کام کیا تھا۔  قدکاٹھ کے اعتبار سے دونوں ہی بڑے فن کار تھے،فلم نگری کے لوگوں کا خیال تھا کہ فلم ” سوداگر“بھی مکمل نہیں ہوگی جس کی وجہ یہ نہیں تھی کہ ہدایت کار کے لئے دونوں اداکاروں سے انصاف کرنا مشکل ہوگا بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ راجکمار کو کینسر جیسا موذی مرض لاحق ہو گیا تھا مگر سبھاش گئی نے ان خبروں پر کان نہ دھرا اور فلم پر کام شروع کردیا۔ خود دلیپ نے ایک بار کہا کہ”بمل رائے کے ساتھ کام کرنا میرے لئے سیکھنے کا باعث تھا،انہوں نے مجھے ہر کردار کی کھال کے اندرگھسنا سکھایا۔آج کل ہمارے پاس اداکاری سکھانے والے ادارے اور اکیڈمیاں ہیں لیکن ہمارے پاس ایسا کچھ نہیں تھاصرف بمل رائے جیسے ڈائریکٹر تھے۔