چینی کمیشن رپورٹ، وفاقی حکومت نے بڑا فیصلہ کرلیا

چینی کمیشن رپورٹ، وفاقی حکومت نے بڑا فیصلہ کرلیا

(مانیٹرنگ ڈیسک) وفاقی حکومت نے چینی کمیشن رپورٹ میں آئے ناموں کیخلاف کارروائی کا فیصلہ کرلیا، ذرائع کے مطابق چینی بحران میں ملوث افراد کے خلاف حتمی کارروائی کا فیصلہ آج وزیراعظم عمران کی زیر صدارت ہونے والے اعلیٰ سطحی اجلاس میں کیا جائے گا۔

ذرائع کے مطابق  اجلاس  میں معاون خصوصی احتساب مرزا شہزاد اکبر چینی بحران کے ذمہ داران کے خلاف کارروائی کے لیے سفارشات پیش کریں گے۔ شوگر انکوائری کمیشن کی رپورٹ میں جن افراد کو بحران کا ذمہ دار قرار دیا گیا ہے، ان کے خلاف فوجداری مقدمات نیب اور ایف آئی اے کو بھجوائے جانے کا امکان ہے ، جس کی حتمی منظوری آج  وزیراعظم کی زیرصدارت اعلیٰ سطح اجلاس میں دی جائے گی۔

 خیال رہے کہ  گذشتہ دنوں حکومت چینی بحران پر وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کی تحقیقاتی رپورٹ کا فرانزک کرنے والے کمیشن کی حتمی رپورٹ منظر عام پر لے آئی تھی، رپورٹ کے مطابق جہانگیر ترین، مونس الٰہی، شہباز شریف اور ان کے اہل خانہ، اومنی گروپ اور عمرشہریار چینی بحران کے ذمے دار قرار دیئے گئے ہیں۔

فرانزک آڈٹ رپورٹ میں چینی اسیکنڈل میں ملوث افراد کیخلاف فوجداری مقدمات درج کرنے اور ریکوری  کرنے کی سفارش کی گئی ہے جبکہ رپورٹ میں تجویز دی گئی ہے کہ ریکوری کی رقم گنے کے متاثرہ کسانوں میں تقسیم کردی جائے۔

یاد رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے اعلان کیا تھا کہ وہ چینی بحران کی فرانزک رپورٹ موصول ہونے کے بعد ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کریں گے۔

 جہانگیر ترین علاج کی غرض سے لندن روانہ ہوگئے ہیں،  ان کی اچانک لندن روانگی کی بعض افراد نے سوال بھی اٹھایا تاہم انہوں نے قیاس آرائیوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ سال میں دو بار چیک اپ کیلئے لندن جاتے ہیں اور جلد وطن واپس آجائیں گے۔

واضح رہے کہ مسلم لیگ (ن) چینی اسکینڈل کی تحقیقات کیلئے قائم کمیشن کی رپورٹ ناکافی قرار دیتے ہوئے مسترد کر چکی ہے ، لیگی رہنما شاہد خاقان عباسی کہتے ہیں اصل کرداروں سے توجہ ہٹانے کیلئے 347 صفحات پر مشتمل رپورٹ لکھی گئی، شوگر اسکینڈل کے اصل ذمہ دار عمران خان، عثمان بزدار،حفیظ شیخ اور اسد عمر ہیں۔