ایل ڈی اےشعبہ کمرشلائزیشن کو فیسوں کی مد میں بڑا دھچکا لگ گیا

ایل ڈی اےشعبہ کمرشلائزیشن کو فیسوں کی مد میں بڑا دھچکا لگ گیا

(درنایاب)ایل ڈی اےشعبہ کمرشلائزیشن کو فیسوں کی مد میں ایک ارب روپےکانقصان ہوا، ایل ڈی اےکنٹرولڈ ایریا میں 1600 سےزائد کمرشل املاک بغیر کمرشل فیسوں کے چلنے لگیں۔

تفصیلات کے مطابق ایل ڈی اےشعبہ کمرشلائزیشن کو فیسوں کی مد میں ایک ارب روپےکانقصان اُٹھانا پڑا، لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی میں 4ماہ قبل ڈی جی ایل ڈی اے نےکمرشلائزیشن بند کرکےپالیسی پرپابندی لگا دی تھی، سپریم کورٹ نے ایل ڈی اے کو نئی پالیسی بنانے کے لئے ایک ماہ کا وقت دیا تھا، ایل ڈی اے نے روائتی سستی کے باعث دو ماہ سے زائد کا وقت لگا دیا،  سپریم کورٹ میں پیش کی گئی،عدالت کا کہنا تھا کہ نئی کمرشلائزیشن پالیسی کو اتھارٹی سےمنظوری تک لاگو نہیں کیا جاسکتا۔

 ایل ڈی اے ماہانہ 20کروڑ سےزائد ریکوری کررہا تھا، 4ماہ سےپابندی کےدوران ایک روپیہ بھی ریکور نہیں کیاجاسکا، سالانہ کمرشلائزیشن پالیسی والی املاک کو سال کےاختتام پر ایک چالان بھی جاری نہ ہوا ،  ایل ڈی اے ذرائع کے مطابق کمرشل پالیسی کی بندش سےمجموعی طور پر نقصان کا تخمینہ ایک ارب لگایا گیا ہے۔

 ایل ڈی اے کی4 ماہ سے زیر التوا ریکوری کیسے کی جائے گی شیڈول طے نہیں کیا جاسکا،  ایل ڈی اے شعبہ کمرشلائزیشن کے افسران و ملازمین ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں ۔