شہر کی اہم شاہراہوں پر تاریکی کے ڈیرے

شہر کی اہم شاہراہوں پر تاریکی کے ڈیرے

( راؤ دلشاد ) میٹروپولیٹن کارپوریشن کا شہر کی سڑکوں کو تاریکی سے نکالنے کا خواب شرمندہ تعبیر نہ ہوسکا، شہر کی 214 شاہراہوں پر دو لاکھ اکسٹھ ہزار پوائنٹس میں سے صرف 35 فیصد کو روشن کیا گیا جبکہ ستائس ماڈل شاہراہوں سمیت متعدد سڑکیں تاحال تاریکی میں ڈوبی ہیں۔

شہر کی مرکزی شاہراہوں اور آف روڈز کے 2 لاکھ 61 ہزار پوائنٹس کو روشن کرنے کیلئے 31 جولائی اور 31 اکتوبر کی دو مرتبہ ڈیڈ لائنز مقرر کی گئیں لیکن بات آگے نہ بڑھ سکی کیونکہ صرف 35 فیصد پوائنٹس ہی روشن ہوسکے۔ چیف کارپوریشن آفیسر میٹروپولیٹن کارپوریشن سیدعلی عباس بخاری کہتے ہیں سٹریٹ کو سو فیصد روشن کرنے کا اعادہ ہے جبکہ ٹیپا اور ایل ڈی اے کی سڑکیں بھی ایم سی ایل کو دی گئیں اب ان کو بھی روشن کرینگے۔

میٹروپولیٹن آفیسر انفراسٹرکچر انور جاوید کہتے ہیں دو سال سے سٹریٹ لائٹس کی خریداری نہیں کی گئی تاہم اب ٹینڈرنگ کا عمل مکمل کیا جارہا ہے بہت جلد شہر کی سڑکیں روشن نظر آئیں گی۔ نو زونز کے افسران نے 20 کروڑ روپے سٹریٹ لائٹس خریداری کا تخمینہ ہیڈ کوارٹر کو بجھوایا، سٹریٹ لائٹس کی خریداری پنجاب میونسپل سروسز پروگرام کے تحت ہوسکتی ہیں۔

شہرکی ستائس ماڈل شاہراہوں جیل روڈ، مال روڈ، فیروز پور روڈ، ایل او ایس روڈ، مین بلیوارڈ سمن آباد، کنال روڈ، نور جہاں روڈ، لوئر مال اور ایبٹ روڈ سمیت متعدد شاہراہوں کے بند پوائنٹس توجہ کے منتظر ہیں۔

میٹروپولیٹن کارپوریشن نے متعدد پوائنٹس کو روشن کرنے کیلئے 20 کروڑ سے زائد تخمینہ تو لگا رکھا ہے لیکن ڈسٹرکٹ پلاننگ اینڈ کوارڈنیشن کمیٹی کی منظوری کے بغیر شہر کی سڑکوں کو تاریکی سے نکالنا ممکن نہیں۔