خوشی کا کوئی بھی تہوار، صنف نازک کے حسن وزیبائش کے بغیرادھورا

خوشی کا کوئی بھی تہوار، صنف نازک کے حسن وزیبائش کے بغیرادھورا

سعدیہ خان: خوشی ومسرت کا کوئی بھی تہوار ، صنف نازک کے حسن وزیبائش کےبغیرادھورا،  گیسوئے دراز سے لیکر معرکہ حسن آرائی تک منفرد نظر آنے کے لیے میچنگ کپڑے، جوتے اور جیولری کی خریداری سب لازم وملزوم ہیں۔ بڑی عید پر بناو سنگھار کے لیے خواتین کی تیاریاں بھی عروج پرپہنچ گئیں۔

 وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ، اوران رنگوں کی چھاپ مزید گہری کرنے کے لیے خواتین ہمیشہ کی طرح سے ہیں پرجوش، سجنا سنورنا اورخوب سے خوب ترنظر آنےکی خواہش صنف نازک سےہےمنسوب، عید پرتیاری نامکمل ہوتو ایسے میں خوشی کے سب رنگ پھیکے پڑ جاتے ہیں۔ کپڑوں کے ساتھ میچنگ جیولری اور جوتےکی تلاش پریشان کن مرحلہ ہوتا ہے اور خواتین اس مشکل مرحلے کو بخوبی سر انجام دینے کے لیے سرگرم دکھائی دیتی ہیں، ہوشربا مہنگائی نے جہاں ہر شعبہ زند گی کومتاثر کیا ہے وہیں عید کی تیاریوں پربھی زد پڑی ہے، جسکا حل سگھڑ خواتین نے سستے ریڈی میڈ ملبوسات اور نان برانڈڈ جوتوں میں نکالا ہے۔

فیشن ڈیزائنزسونیا خان کا کہنا ہے کہ ہرعید پرخواتین میں دوسروں سے منفرد نظر آنے کا مقابلہ عروج پر ہوتا ہے، مزید کہا کہ آجکل ریڈی ٹو ویئر میں ہلکے رنگ اور ایمبرائڈری والے سوٹ پسند کیے جارہے ہیں۔ عید قرباں پرجہاں جانوروں کی خریداری مردوں کی ذمہ داری وہیں خواتین کی تمام تر بھاگ دوڑ سجنے سنورنے تک محدود رہتی ہے، بیوٹی پارلز، سیلونز سے لیکربازار یاترا کا یہ سلسلہ چاند رات کےآخری پہر تک جاری رہے گا۔

Shazia Bashir

Content Writer