شاہی قلعہ کی ٹوٹی دیوار نے انتظامیہ کی کارکردگی کا پول کھول دیا

شاہی قلعہ کی ٹوٹی دیوار نے انتظامیہ کی کارکردگی کا پول کھول دیا

( عفیفہ نصر اللہ ) والڈ سٹی اتھارٹی نے عالمی ورثے کو کاروبار بنا ڈالا، مگر ایک سال پہلے شاہی قلعے کی گری ہوئی دیوار آج تک بحال نہ کی جا سکی، محکمہ آرکیالوجی کے افسران کا کہنا ہے تاریخ پر گاڑیوں کے پہیے چلائے جا رہے ہیں۔

گزشتہ مون سون میں شاہی قلعے کی پچھلے حصے کی دیوار گر گئی تھی جو آج تک ویسے کی ویسی ہی ہے۔ اسے بحال کیا جا سکا ہے اور نہ ہی بحالی کے کوئی امکانات ہیں۔ دیوار میں پڑنے والی دراڑیں قلعے کے دوسرے حصے تک پہنچ رہی ہیں اور اسے کمزور کر رہی ہیں۔ بارش کے باعث دیوار کے اندر لگایا گیا مواد بھی باہر گر رہا ہے۔

والڈ سٹی اتھارٹی نے اس حصے کو بحال کرنے کی بحائے ایک سال سے اسے سہارا دینے کے لیے اسپورٹنگ راڈز لگا رکھے ہیں۔ محکمہ آرکیالوجی کے عہدیداران کا کہنا ہے کہ جب سے شاہی قلعہ والڈ سٹی اتھارٹی کی تحویل میں گیا ہے تب سے قلعے میں غیر قانونی توڑ پھوڑ کی جارہی ہے۔ قلعے کی تاریخ کو بدلا جا رہا ہے۔

شاہی قلعے میں کام کرنے والے آرکیالوجی ملازمین کے مطابق والڈ سٹی اتھارٹی کے پاس ناتجربہ کار لوگ ہیں جن کو عالمی اور تاریخی ورثہ کے متعلق آگاہی ہی نہیں ہے، وہ تاریخ کو مسح کر رہے ہیں یہی وجہ ہے کہ دراڑیں مزید بڑھتی جا رہی ہیں۔