ڈی ایچ اے سکینڈل کے ملزم کی ضمانت منظور، رہائی کا حکم

ڈی ایچ اے سکینڈل کے ملزم کی ضمانت منظور، رہائی کا حکم
DHA scandal

(ملک اشرف)لاہور ہائیکورٹ نے،ڈی ایچ اے سکینڈل کے ملزم مراد ارشد کی ضمانت منظورکرلی اور ملزم کو پانچ لاکھ کے ضمانتی مچلکے جمع کرانے کے عوض رہائی کا حکم دے دیا جبکہ دوارے ملزم حماد ارشد کی درخواست ضمانت میں فریقین کے وکلاء کو بحث کے لئے طلب کرلیا۔

 تفصلات کے مطابق جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر اور جسٹس اسجد جاوید گھرال پر مشتمل بینچ نے ملزمان کی ضمانت پر سماعت کی ۔ملزم مراد ارشد کی جانب سے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ اس کیس میں نیب کے 1407 گواہ ہیں.ابھی تک ایک گواہ کا بیان بھی مکمل نہیں ہوا.کیس کے ٹرائل کا جلد مکمل ہونے کا کوئی امکان نہیں.

وکیل درخواستگزار کا کہناتھا کہ مراد ارشد کو اکتوبر 2018 میں گرفتار کیا گیاتھا۔استدعا ہے کہ ملزم کی ضمانت بعد از گرفتاری منظور کی جائے۔ملزم حماد ارشد کی جانب سے وکلاء نے موقف اختیار کیا کہ حماد ارشد کی گرفتاری غیر قانونی ہے لہٰذا عدالت حماد ارشد کی گرفتاری کالعدم قرار دے،نیب پراسیکیوٹر نے جواب دیا،14جون 2010 کو ڈی ایچ اے اور گلوبیکو کے حماد ارشد کے درمیان معاہدہ طے پایا۔

نیب کو2مارچ 2011 کو ملزمان کے خلاف پہلی شکایت موصول ہوئی، 4فروری 2015 کو نیب نے شکایات کی تصدیق کی،شہری نعمان دائود اور ڈی ایچ اے کی جانب سے شکایت پرچارمئی کو حماد ارشد، مراد ارشد اور بریگیڈیئر ریٹائرڈ خالد نذیر بٹ کے خلاف انکوائرئی شروع کی گئی،ملزم نے 25 ہزار کنال اراضی کی بجائے 2ارب10 کروڑ سے 13 ہزار 92 کنال،چار ٹکڑوں کی شکل میں دی۔

حماد ارشد کی جانب سے فراہم کی گئی اراضی دریا میں ہے،جہاں سڑک ہی نہیں جاتی، ملزم حماد ارشد نے 10 ہزار 5 سو 45 جعلی الاٹمنٹ لیٹرز جاری کیے، حماد ارشد اور دیگر ملزمان نے جعلی الاٹمنٹ لیٹرز جاری کرکے 15 ارب 47 کروڑ اور 60 لاکھ روپے بٹورے ۔25ہزار کنال اراضی میں سے 30 فیصدپلاٹس شہداکو دیے جانے تھے۔

حماد ارشد نے 5 جون 2013 کو ڈی ایچ اے کی مرضی کے بغیر 1 ارب 34 کروڑ روپے سے زائد رقم اکائونٹ سے نکالیا،نیب پراسیکیوٹر نے استدعا کی کہ عدالت ملزم کی گرفتاری کے خلاف درخواست خارج کرے۔