وزیراعظم کا شہر قائد کیلئے 1100 ارب کے پیکج کا اعلان

وزیراعظم کا شہر قائد کیلئے 1100 ارب کے پیکج کا اعلان

(مانیٹرنگ  ڈیسک) وزیراعظم عمران خان آج ایک روزہ دورے پر کراچی پہنچے جہاں ان کی صدارت میں کراچی کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں گورنر سندھ عمران اسماعیل، وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ اور وفاقی وزراء اسد عمر، شبلی فراز، علی زیدی اور امین الحق بھی شریک ہوئے۔

اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب میں عمران خان نے کہا کہ کراچی کے مسائل مستقل بنیادوں پر حل کریں گے، پاک فوج کا اس میں بہت اہم کردار ہے، کراچی پیکج پر وفاق اور سندھ حکومت مل کر عمل درآمد کریں گے جس کے تحت شہریوں کو پینے کا پانی ملے گا، نالوں کی صفائی ہوگی، بے گھر ہونے والے افراد کی آباد کاری ہوگی، سیوریج سسٹم ، سالڈ ویسٹ منیجمنٹ ، کراچی سرکلر ریلوے، گرین لائن، ٹرانسپورٹ کی فراہمی اور سڑکوں کی مرمت بھی اسی پیکج میں شامل ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ کراچی کیلئے 1100 ارب روپے کا پیکج لے کر آئے ہیں، کراچی پیکج کیلئے وفاق اور سندھ حکومت حصہ ڈال رہی ہے، کراچی کیلئے پانی کے منصوبے کے فورکا ایک حصہ وفاقی حکومت اور ایک سندھ حکومت لے گی، ہماری کوشش ہے کراچی کے پانی کا مسئلہ تین سال میں مستقل حل کردیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ این ڈی ایم اے کراچی کے نالوں کی صفائی کرے گی اورکر رہی ہے، سندھ حکومت نے نالوں کے اطراف تجاوزات کیخلاف آپریشن سے بے گھر افراد کی آبادکاری کی ذمہ داری لی ہے۔

عمران خان نے بتایا کہ 1100 ارب کے پیکج میں کراچی کے سیوریج کا مسئلہ بھی حل کریں گے، سالڈ ویسٹ کا مسئلہ بھی حل کیا جائے گا، شہر میں سرکلر ریلوے بھی اسی پیکج میں مکمل کریں گے، شہر کی سڑکیں اور ٹرانسپورٹ کے مسائل بھی حل کریں گے۔

  وزیراعظم نے کہا کہ کراچی میں کہیں کینٹونمنٹس ، کہیں وفاق اورکہیں صوبائی حکومت کی حدود ہیں ،پہلے عملدرآمد مشکل ہوتا تھا اب کمیٹی بن گئی ہے، تمام اسٹیک ہولڈرز ایک جگہ ہوں گے اور فیصلے آسان ہوں گے، پی سی آئی سی کے اوپر نگرانی ہو رہی ہوگی۔

انہوں نے بتایا کہ کراچی میں وفاقی حکومت ،صوبائی حکومت اور پاک فوج بھی کام کر رہی ہوگی، کراچی کے تعطل میں پڑے مسائل اب انشااللہ ہم حل کریں گے، کراچی میں بارشوں سے جو تباہی ہوئی اس سمیت دیگر مسائل کو ایک ہی دفعہ حل کرنیکافیصلہ کیا ہے۔

 انہوں نے کہا کہ کراچی میں مختلف اداروں کی مداخلت ہے اس لیے  فیصلوں پر عمل درآمد کی نگرانی کے لیے کمیٹی بھی قائم کردی گئی  جس میں  تمام اسٹیک ہولڈرز ایک جگہ پر ہوں گے۔

قبل ازیں کراچی پہنچنے پر گورنر سندھ عمران اسماعیل اور وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے وزیراعظم عمران خان کا استقبال کیا، وزیر اطلاعات سینیٹر شبلی فراز اور ممبر قومی اسمبلی عامر محمود کیانی بھی وزیراعظم کے ہمراہ کراچی آئے ہیں۔