کل سے تمام سکول بند کرنے کا اعلان

School closed in Peshawar tomorrow
کیپشن: School closed
سورس: google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک) پشاور میں پرائمری ٹیچرز ایسوسی ایشن اور محکمہ تعلیم میں مذاکرات ناکام، پولیس نے خیبر پختونخوا اسمبلی کے سامنے احتجاج کرنے والے اساتذہ پر آنسو گیس کی شیلنگ کی، احتجاجی اساتذہ پر آنسو گیس اور لاٹھی چارج کیا گیا۔

تفصیلات کےمطابق  پشاور میں پرائمری ٹیچرز ایسوسی ایشن اور محکمہ تعلیم میں مذاکرات ناکام ہوگئے ۔ پولیس نے خیبر پختونخوا اسمبلی کے سامنے احتجاج کرنے والے اساتذہ پر آنسو گیس کی شیلنگ کی،مظاہرین کا کہنا ہے کہ مطالبات کی منظوری تک واپس نہیں جائیں گے، پشاور، احتجاجی اساتذہ پر آنسو گیس اور لاٹھی چارج کیا گیا۔

پولیس نے خیبر پختونخوا اسمبلی کے سامنے احتجاج کرنے والے اساتذہ پر طاقت کا استعمال کیا، پولیس نے آنسو گیس، شلنگ اور شدید ہوائی فائرنگ  کی، مظاہرین نے پولیس پر پتھراؤ کیا جس کے باعث چھ اہلکاروں شدید زخمی ہوئے ہیں جن کو ابتدائی طبی امداد کی خاطر ہسپتال منتقل کیا گیا ہے,متعدد دیگر اہلکار کو بھی معمولی چوٹیں آئیں ہیں۔

ترجمان پشاور پولیس کا کہناتھا کہ پتھراو سے ایس ایس پی آپریشنز بھی زخمی ہوئے ہیں جن کو بھی ہسپتال منتقل کردیا گیا، پولیس کی جانب سے درجنوں افراد کو حراست میں لیا گیا ہے،جن کے کوائف وغیرہ چیک کئے جا رہے ہیں جس کے بعد ان کے بعد مزید کاروائی عمل میں لائی جائے گی۔

خیبر پختونخوا کے پرائمری ٹیچرز پنشن میں کٹوتی اور بے سکیل کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے ہیں، مظاہرین نے اسمبلی چوک میں جی ٹی روڈ کو ٹریفک کے لیے بند کر کے احتجاج کیا، مظاہرین کا کہنا تھا حکومت نے3 سال سے پیشن میں کٹوتی اور بے سکیل کا وعدہ پورے نہیں کیا، حکومت اور مظاہرین کے درمیان مذاکرات کا ناکام ہوئے تو پولیس اور انتظامیہ نے سڑک کھولنے کے لیے مظاہرین پر ہوائی فائرنگ اور شلنگ کی۔

  پولیس کا کہناتھا کہ 150 سے زائد اساتذہ گرفتار کرلئے،گورنمنٹ ہائیر سیکنڈری سکول سٹی نمبر ون میں داخل ہے،اساتذہ پر تشدد اور گرفتاری کا سلسلہ جاری ہے، پولیس نے احکامات جاری کئے ہیں کہ جو بھی جی ٹی روڈ پر نظر آئیں ان کو گرفتار کرو۔

دوسری جانب  صوبائی صدر ایپٹا عزیز اللہ کا کہناتھا کہ  اساتذہ پر شیلنگ، آنسو گیس اور فائرنگ کرنے والوں کو جواب دینا ہوگا، ہم دھرنے کے لئے آئیں ہیں واپس نہیں جائیں گے،حکومت خود ریڈ زون میں احتجاج کرے تو خیر ہے،  احتجاج کے سلسلے کو مزید توسیع دیتے ہوئے کل سے صوبے بھر میں پرائمری سکولوں کو بند کرنے کا اعلان کردیا جبکہ احتجاج میں کل سے خواتین اساتذہ بھی شریک ہوں گی۔