اپوزیشن لیڈر شہباز شریف 10 روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے


(شاہین عتیق) لاہور کی احتساب عدالت نے اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کو آشیانہ ہاؤسنگ سوسائٹی کا ٹھیکہ من پسند افراد کو دینے کے الزام میں دس روز ہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے کردیا۔

تفصیلات کے مطابق نیب نے سخت سیکیورٹی حصار میں شہباز شریف کو احتساب عدالت کے روبرو پیش کیا اور عدالت کو بتایا کہ شہباز شریف کو آشیانہ ہاؤسنگ سوسائٹی سکینڈل میں گزشتہ روز گرفتار کیا گیا. نیب کے مطابق شہباز شریف نے وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے آشیانہ ہاؤسنگ سوسائٹی کے غیر قانونی طور پر ٹھیکے دیئے اور منظور نظر افراد کو نوازا. اس طرح قومی خزانے کو اربوں کا نقصان ہوا. نیب نے استدعا کی کہ تحقیقات کے لئے جسمانی ریمانڈ دیا جائے۔

شہباز شریف کے وکیل امجد پرویز نے گرفتاری اور ریمانڈ کی مخالفت کی. اپوزیشن لیڈر کے وکیل نے دعویٰ کیا کہ نیب کے الزامات بے بنیاد ہیں. شہباز شریف کو جس انداز میں گرفتار کیا وہ قانون کے مطابق نہیں اور قانونی تقاضے پورے نہیں کیے گئے. وکیل نے نکتہ اٹھایا کہ ایک الزام میں تحقیقات کیلئے بلایا اور دوسرے الزام میں گرفتار کرلیا۔

وکیل نے شہباز شریف کا ریمانڈ دینے کی بھرپور مخالفت کی اور اسے بلاجواز اور وقت کا ضیاع قرار دیا. شہباز شریف نے دوران سماعت اپنے بیان میں کہا کہ انہوں نے ملک وقوم کی ترقی کے لیے کام کیا، کرپشن کے تمام الزامات بے بنیاد ہیں۔ اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ میں نے لٹیروں سے کروڑوں روپے وصول کر کے قومی خزانے کو نقصان سے بچایا۔

احتساب عدالت کے جج سید نجم الحسن نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد شہباز شریف کا دس دنوں کا جسمانی ریمانڈ دے دیا اور ہدایت کی کہ شہباز شریف کو ریمانڈ ختم ہونے پر دوبارہ 16 اکتوبر کو عدالت میں پیش کیا جائے۔

ویڈیو دیکھیں