پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس بے نتیجہ ختم، نگران وزیراعلیٰ کا فیصلہ الیکشن کمیشن کرے گا


(قذافی بٹ) نگران وزیراعلی پنجاب کے معاملے پر مسلم لیگ( ن )نے لچک دکھائی نہ تحریک انصاف رام ہوئی۔ایک دوسرے پر جانبداری کا الزام لگاتے رہے، پارلیمانی کمیٹی بھی اتفاقِ رائے پیدا کرنے میں ناکام ہوگئی۔ اب الیکشن کمیشن فیصلہ کرے گا۔

خبر پڑھیں۔۔۔شہباز شریف، حمزہ شہباز اور مریم نواز کس حلقے سے الیکشن لڑیں گے؟ اہم خبر سامنے آگئی

سٹی 42 کے مطابق نگران وزیر اعلیٰ کے تقرر پر سیاسی قیادت ناکام ہوگئی، پارلیمانی کمیٹی بھی کسی نام پر اتفاق نہ کرسکی۔ پی ٹی آئی پروفیسر حسن عسکری اور ایاز امیر کے ناموں پر ڈٹی رہی۔ مسلم لیگ (ن) نے سابق نیول چیف ذکاءاللہ کے نام پر اتفاق کا مشورہ دیا۔

خبر ضرور پڑھیں۔۔محکمہ خزانہ کے ملازمین کے وارے نیارے، شہباز شریف مہربان ہوگئے

رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ تعصب پر مبنی نام قبول نہیں کیا جاسکتے، ملک احمد خان نے کہا کہ ہمارے نام غیر جانبدار تھے تحریک انصاف اتفاق نہیں کرنا چاہتی تھی, پارلیمانی اجلاس میں شرکت کے بعد پی ٹی آئی رہنما میاں محمودالرشید کا کہنا تھا کہ حسن عسکری غیر جانبدار تھے ہم نے حکومت کو راضی کرنے کی کوشش کی لیکن اسکے غیر لچکدار رویے کے باعث مذاکرات ناکام ہوئے ہیں۔

خبر پڑھیئے۔۔سینئر صحافی اسد کھرل پر قاتلانہ حملہ

مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف کے درمیان مذاکرات کا کل دورانیہ صرف بیس منٹ رہا۔ تاہم ناکامی کے بعد طے کیا گیا کہ اسپیکر اسمبلی رانا محمد اقبال معاملہ حل کرنے کیلئے سمری الیکشن کمیشن کو بھجوائیں گے جو دو روز کے اندر نگران وزیر اعلیٰ کے نام کا فیصلہ کرے گا۔