ایلون مسک نے ٹوئٹر انتظامیہ کو دھوکہ باز قرار دے دیا

Elon musk
سورس: google
Stay tunned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک:دنیا کے امیر ترین شخص ایلون مسک نے ٹوئٹر انتظامیہ پر دھوکہ دہی کا الزام عائد کرتے ہوئے عدالت میں جواب جمع کرادیا۔

گزشتہ دنوں ٹوئٹر انتظامیہ کی جانب سے ایلون مسک کے خلاف عدالت میں دائر کی گئی درخواست کے جواب میں ٹیسلا کے سی ای او ایلون مسک نے بھی دھوکہ بازی کا الزام عائد کردیا۔

اس حوالے سے غیرملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق ایلون مسک نے الزامات عائد کئے ہیں کہ ٹویٹر نے اپنے کاروبار کے بارے میں انہیں اس وقت گمراہ کن معلومات دی جب انہوں نے 44 بلین ڈالر کے معاہدے پر دستخط کیے تھے

ٹیسلا کے سی ای او نے یہ دعویٰ ٹویٹر کی جانب سے ڈیل کو منسوخ کرنے کے بجائے مکمل کرنے پر دائر کیے گئے مقدمے کے جواب میں دائر کیا۔

عدالت میں داخل کیے گئے اپنے جواب میں ایلون مسک نے مؤقف اختیار کیا کہ ٹوئٹر پر اصل صارفین کے حوالے سے انہیں جو اعداد شمار دیے گئے، اصل صارفین کی تعداد اس سے کافی کم ہے۔

انہوں نے کہا کہ اب اپنی دھوکہ دہی کا پردہ فاش ہونے کے خوف سے ٹوئٹر انتظامیہ ان پر درست معلومات تک رسائی کے راستے بند کر رہی ہے۔

خیال رہے کہ ایلون مسک سے قبل ٹوئٹر نے عدالت میں پیش کیا گیا اپنا مؤقف عوام کے سامنے رکھ دیا تھا جس کے جواب میں ایلون مسک کی جانب سے بھی عدالت میں داخل کیا گیا اپنا جواب عوام کے سامنے پیش کیا گیا ہے۔

ٹوئٹر نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ ایلون مسک 44 ارب ڈالر کے معاہدے سے بچنے کے لیے فرضی جواز بنا رہے ہیں، ایلون مسک کی کہانی تصوراتی اور معاہدے سے بچنے کی کوشش ہے کیونکہ حصص میں کمی کے باعث وہ اس معاہدے کو پرکشش تصور نہیں کرتے جبکہ خود ان کی اپنی ذاتی دولت میں کمی آئی ہے۔