اساتذہ کیلئے پریشان کن خبر؛ بڑی رکاوٹ درپیش

اساتذہ کیلئے پریشان کن خبر؛ بڑی رکاوٹ درپیش
Stay tunned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(علی ساہی)پنجاب کی بیوروکریسی حکومت کے "آفٹر نون" سکول پروگرام میں رکاوٹ بن گئی،7 ہزار "آفٹر نون " سکول بن گئے مگر مختص فنڈ تہ حال نہ مل سکے ،آفٹر نون سکول پروگرام کے لیے 6 ارب روپے سے زائد فنڈ درکار ہے.

تفصیلات کےمطابق لاہور سمیت پنجاب بھر میں آفٹر نون سکول پروگرام شروع کیا گیا ہے جس کا مقصد شام میں بھی سرکاری سکولوں میں تدریسی سرگرمیاں جاری رکھنا ہے تاکہ ایسے سکول جہاں بچوں کی تعداد زیادہ ہے اور کمرے کم ہونے پر شام میں بچوں کو پڑھایا جاسکے،اس پروگرام کا آغاز ہوچکا ہے اور محکمہ سکول ایجوکیشن نے محکمہ خزانہ سے آفٹر نون سکول پروگرام کے لیے بجٹ میں مختص فنڈ مانگے جس پر محکمہ خزانہ پنجاب نے بجٹ دینے سے انکار کردیا۔

ذرائع کا کہنا ہے محکمہ خزانہ اور پی اینڈ ڈی نے فنڈ کے اجرا کے لیے پی سی ون کو مشروط قرار دے دیا ہے اور پی سی ون بنے گا تو فنڈ کے اجرا کی منظوری دی جائے گی،ذرائع کا کہنا ہے کہ آفٹر نون سکول پروگرام کے فنڈ نہ ملے تو اساتذہ اعزازی تنخواہوں سے محروم رہیں گے ۔

دوسری جانب محکمہ خزانہ ہے حکام کا کہنا ہے کہ 6 ارب روپے کے فنڈ کا اجرا بغیر پی سی ون نہیں ہوسکتا اور سرکاری ریکارڈ کے لیے پی سی ون کی پی اینڈ ڈی بورڈ سے منظوری لینا لازمی ہے۔

واضح رہے کہ  حکومت پنجاب نے شرح خواندگی بڑھانے اور طلباء کی اینرولمنٹ میں اضافہ کی غرض سے شہر سمیت صوبے کے سرکاری سکولوں میں انصاف آفٹر نون سکولز لانچ کیے ہیں، ان سکولوں میں دوپہر کے اوقات میں کلاسز کو پڑھانے کے لیے اساتذہ کی تنخواہ 15 ہزار روپے مقرر کرنے کا انکشاف ہوا ہے۔

محکمہ سکولز ایجوکیشن نے ایلیمنٹری اور ہائی سکول میں آفٹر نون کلاسز کا اجراء کیا ہے، چار اساتذہ کی تقرریوں کے اختیارات ہیڈ ماسٹرز کو تفویض کئے گئے ہیں، انصاف آفٹر نون سکولز میں ایلیمنٹری کلاس کو پڑھانے کیلئے اُستاد کی تنخواہ 15 ہزار جبکہ ہائی سکول میں استاد کی تنخواہ 18 ہزار روپے مقرر ہے۔