آٹا بحران،قانون حرکت میں آگیا

 آٹا بحران،قانون حرکت میں آگیا

عمران یونس:پنجاب میں بھی خوراک کی فراہمی اور شفافیت کو سنجیدگی سے لیا جانے لگا ہے۔عام مارکیٹ میں آٹے کی قلت کا معاملے پر پنجاب حکومت کے سینئر وزیرکی خصوصی توجہ کے بعد محکمہ خوراک نے فلور ملز پروڈکشن اور سپلائی انسپکشن شروع کر دی ۔فلور ملوں کی فوٹج استعمال ہوگی۔ اسکے علاوہ صوبہ بھر میں معیاری خوراک کی یقینی فراہمی کے لیے روزانہ کی بنیاد پر مسلسل کارروائیاں جاری ہیں۔پنجاب فوڈ اتھارٹی کی 1ہزار575 مقامات کی چیکنگ کے دوران63 مقامات سیل اور190 کو جرمانے کیے گئے۔

   وزیر خوراک پنجاب عبدالعلیم خان کی ہدایت پر محکمہ خوراک نے فلور ملوں کی انسپکشن کیلئے لاہور سمیت صوبہ بھر میں ٹیمیں تشکیل دے دیں۔لاہور کیلئے 3 ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں ۔ٹیموں میں گریڈ 17 اور 15 کے افسران شامل ہیں۔ٹیمیں سرپرائز چیکنگ کے دوران فلور ملوں میں آٹے کی پروڈکشن اور مارکیٹ میں سپلائی کی انسپکشن کرینگی۔حکومت کی جانب سے ملوں کو فی باڈی 41 بوریاں سرکاری گندم فراہم کی جا رہی ہے۔محکمہ خوراک کے مطابق محکمانہ انسپکشن کا مقصد گندم اور آٹے کی ذخیرہ اندوزی اور غیرقانونی نقل و حمل روکنا ہے۔

  فوڈ اتھارٹی کی جانب سے ملاوٹ کرنے پر ایک شخص کے خلاف مقدمہ درج،8 فوڈ پوائنٹس کی پروڈکشن اصلاح ہونے تک بند کر دی گئی۔موبائل ٹیسٹنگ لیبارٹریوں نے20 ملک شاپس،283 دودھ بردار گاڑیوں میں 2 لاکھ 92 ہزار560 لیٹر دودھ چیک کیا۔ 8 ہزار 72 لیٹر ملاوٹی دودھ،163 کلو مصالحہ جات،گھی اور گوشت تلف کیا گیا۔ڈی جی فوڈ اتھارٹی کےمطابق پنجاب فوڈ اتھارٹی بائیک اسکواڈ نے گلی کوچوں میں 41 فوڈ پوائنٹس کو چیک کیا