ٹیچر کی خودسوزی کامعاملہ، جاری رپورٹ میں تہلکہ خیزانکشافات

ٹیچر حافظ اویس کی خودسوزی کا معاملہ
Teacher death

(جنید ریاض)ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹی لاہور کے آفس میں ٹیچر حافظ اویس کی خودسوزی کا معاملہ،ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹی کی بنائی گئی تین رکنی کمیٹی نے خود سوزی کے معاملہ پر رپورٹ جاری کردی۔

تفصیلات کے مطابق  ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹی لاہور کے آفس میں ٹیچر حافظ اویس کی خودسوزی کے معاملہ میں اہم پیشرفت سامنے آئی،ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹی کی بنائی گئی تین رکنی کمیٹی نے خود سوزی کے معاملہ پر رپورٹ جاری کردی۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ٹیچر حافظ اویس ذہنی طور پر بیمار شخصیت کے مالک تھے۔حافظ اویس کا سکول میں خواتین اساتذہ و بچوں سے غیرمناسب اور اخلاقی رویہ تھاحافظ اویس کو کنٹریکٹ منسوخی کے آرڈر میں مطلوبہ اہداف حاصل نہ ہونے پر خودکشی کا مرتکب ہوا۔

انکوائری کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں خودکشی پر اکسانے پر حافظ اویس کے بھائی محمد وقاص کےخلاف متعلقہ ڈیپارٹمنٹ سے قانونی کارروائی کی درخواست کی ہے۔ یادرہے کہ ٹیچر حافظ اویس زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے 20 مارچ کو میو ہسپتال میں وفات پاگئے تھے۔

ذرائع ابلاغ کے مطابق چیف ایگزیکٹو ایجوکیشن پرویز اختر کے دفتر میں انصاف نہ ملنے کی شکایت پر ٹیچر نے دل برداشتہ ہو کر تیل چھڑک کو خود کو آگ لگا لی ‘ حافظ اویس بری طرح جھلس گیا ‘تشویشناک حالت میں ہسپتال داخل کرا دیاگیا۔ ٹیچر حافظ اویس کو بچے پر تشدد کے الزام میں پہلے معمولی سزا دی گئی جبکہ اس سزا کےخلاف اپیل کرنے پر نوکری سے نکال دیا گیا تھا۔

 حافظ اویس  ٹیچر کے خوسوزی کے واقعہ پرچیف ایگزیکٹو آفیسر لاہور پرویز اختر نے تین رکنی کمیٹی تشکیل دی تھی۔ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر سیکنڈری لاہور رانا ظفر شہزاد کو کمیٹی کا سربراہ مقرر کیاگیاتھا۔ چیف ایگزیکٹو آفیسر لاہور پرویز اختر کا کہنا تھا کہ   کسی استاد کو کوئی پریشانی ہے تو وہ براہ راست مجھ سے ملاقات کرے‘ اساتذہ کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کر رہے ہیں۔