ساوتھ ایشیاء پیس ایکشن نیٹ ورک کی 'کوپ 26' کو یاد دہانی

ساوتھ ایشیاء پیس ایکشن نیٹ ورک کی 'کوپ 26' کو یاد دہانی
SAPAN resolution

ویب ڈیسک: ساوتھ ایشیاء پیس ایکشن نیٹ ورک نے تشویش کا اظہار کیا ہے کہ جنوب ایشیائی ریاستوں نے گلاسگو میں جاری ماحولیاتی تبدیلیوں کی کانفرنس 'کوپ26' میں خطے کو درپیش ماحولیاتی چیلنج پر مشترکہ لائحہ عمل پیش نہیں کیا۔ 

ایک آن لائن ڈائیلاگ میں منظور کی جانے والی قرارداد میں کہا گیا کہ 'کوپ26' کو آبادی کے لحاظ سے دنیا کا ایک چوتھائی  حصہ جنوبی ایشیاء کو درپیش چیلینجز کا ادراک ہونا چاہئے اور دنیا کے ایسے بڑے ملک جن کا ماحول خراب کرنے میں بڑا کردار ہے انہیں یہ زمہ داری بھی لینا ہوگی کہ وہ گیسوں کے اخراج پر قابو پانے کے لیے اقدامات کریں۔ 

غربت کے خاتمے کی خاطر جاری اربوں  ڈالر کے ترقیاتی منصوبوں میں خواہشات کا تصادم نہیں ہونا چاہئے۔ شرکاء نے خطے کی حکومتوں پر زور دیا کہ ترقی اور دولت پیدا  کرنے کے بہانے استعمال ہونے والے فوسل ایندھن پر انحصار کو ترک کرنا ہوگا۔ عالمی شمال کو وعدے کے مطابق مالی امداد اور ٹیکنالوجی کی جنوبی حصے کو منتقلی کو یقینی بنانا ہوگا تاکہ وہ متحد ہوکر عالمی درجہ حرارت کو 1۔5 ڈگری تک محدود رکھنے میں اپنا کردار ادا کرسکیں۔ 

مزیدجانئے: ساوتھ ایشیاء پیس ایکشن نیٹ ورک نے تشویش کا اظہار کیا ہے

شرکاء کا ماننا تھا کہ وہ جنوبی ایشیاء کے ممالک کی حکومتوں پر دباو ڈالتے رہیں گے کہ وہ رابطے اور تعاون کی راہ داریاں کھلی رکھیں تاکہ ماحولیاتی تبدلیوں کے چیلنجز کا حل نکال سکیں۔ انہوں نے خطے کے عوام کے ساتھ یک جہتی کا اعلان کیا تاکہ ماحولیاتی تبدیلی کے بحران کو مشترکہ طور پر حل کیا جا سکے اور حکومتیں اختلافات کو بھلا کر ایک دوسرے کے ساتھ موسمیاتی تباہی کے امکانات سے متعلق معلومات اور علم کے تبادلے پر تعان کرنے پر زور دیں۔ 

ساپن کی تقریب میں پاکستان سے درلابھ اشوک اور بھارت سے دیشا روی نے قرارداد پیش کی جبکہ خوشی کبیر  بحث میزبان تھے۔ آفیہ سلام نے وندانا شیوا اور دیگر کے ساتھ  پلینری سیشن میں موڈریٹر کا کردار ادا کیا۔