لاہور کو بڑا خطرہ،پاکستان سمیت خطے میں سموگ کی بڑی وجہ سامنے آ گئی

Envirnment
Smog and polution in the city

(ویب ڈیسک) لاہور دنیا کے  آلودہ ترین شہروں میں سر فہرست آگیا۔شہر میں ایئرکوالٹی انڈیکس کی شرح231ریکارڈ، شام کےوقت ایئرکوالٹی انڈیکس کی شرح350سےتجاوزکرگئی۔

 ماہرین کا کہنا ہے کہ  کاربن نائٹروجن آکسائیڈ سمیت دیگر گیسز کی شرح میں اضافہ ہوا، موسم سرما میں سموگ ،فضائی آلودگی میں اضافہ ہوگا، دوسری طرف ہمسایہ ملک بھارت میں منائے جانیوالے تہوار دیوالی کے دوران کروڑوں کی تعداد میں آتشبازی چلانے سے آلودگی کی سطح انتہائی خطرناک حدوں کو چھونے لگی اور اسی کے اثرات پاکستان پر بھی مرتب ہورہے ہیں۔ بھارتی دارالحکومت میں دیوالی پر پابندی کے باوجود آتش بازی کی گئی۔  دہلی کے علاقے جن پتھ میں ایئر کوالٹی انڈیکس 655 اعشاریہ 07 پرٹیکیولیٹ میٹرز ریکارڈ کیا گیا ہے۔

عالمی تھنک ٹینک ’جرمن واچ‘ نے اپنی ایک حالیہ رپورٹ میں 2000 سے 2019 تک دو دہائیوں کے دوران شدید نوعیت کے موسمی حالات اور قدرتی آفات کا جائزہ لیتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ اس مدت کے دوران عالمی معیشت کو 2.56 کھرب امریکی ڈالرز کا نقصان پہنچا ہے۔

  دوسری جانب سکاٹ لینڈ کے شہر گلاسگو میں 12 روزہ ماحولیاتی کانفرنس کوپ 26 جاری ہے، جہاں دنیا بھر سے رہنما شرکت کر رہے ہیں لیکن جنوبی ایشیا کے رہنما نہ صرف اس میں شرکت سے محروم ہیں بلکہ ماحولیات کی تباہی کے حوالے سے اپنی کسی بھی قسم کا لائحہ عمل پیش کرنے سے قاصر رہے تاہم  ساؤتھ ایشیا  پیس ایکشن نیٹ ورک نامی این جی اوکی جانب سے منظور کردہ قرارداد نے اس حوالے جنوبی ایشیا کے ممالک کی حکومتوں سے مایوسی کااظہار کیا ہے۔

جرمن واچ کے گلوبل کلائمیٹ انڈیکس میں آبادی کے لحاظ سے دنیا کے پانچویں بڑے ملک پاکستان کو عالمی تنظیموں کی جانب سے موسمیاتی تبدیلیوں سے متاثر ممالک کی فہرست میں آٹھویں نمبر پر رکھا گیا ہے۔

جرمن واچ نے رپورٹ میں کہا کہ فلپائن اور ہیٹی کے بعد پاکستان دنیا میں موسمی حالات کی وجہ سے آنے والی قدرتی آفات سے سب سے زیادہ اور مستقل طور پر متاثر ملک ہے۔

پاکستان کی جی ڈی پی کے ہر یونٹ پر اعشاریہ 52 فیصد نقصان موسمیاتی تبدیلی کے باعث ہو رہا ہے اور 19 سالوں میں پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے 173 قدرتی آفات رونما ہوئی ہیں۔