وکلا رہنماؤں نے 24 نیوز کی بندش کو آزادی صحافت پر حملہ قرار دے دیا

وکلا رہنماؤں نے 24 نیوز کی بندش کو آزادی صحافت پر حملہ قرار دے دیا

ملک اشرف: وکلا رہنماؤں نے ٹوئنٹی فورنیوز کی بندش کو آزادی صحافت پر حملہ قرار دے دیا، وکلا تنظیموں نے حکومت اور پیمرا کے خلاف احتجاج کی کال پر غور شروع کردیا، مشاورت کے بعد احتجاج کا باقاعدہ اعلان کیا جائے گا۔

   چئیرمین ایگزیکٹو کمیٹی ہاکستان بار اعظم نذیر تارڑ کا کہنا ہے کہ ٹونٹی فور نیوز پر ہابندی غیر قانونی اور غیر آئینی ہے اس کی مذمت کرتے ہیں، وائس چئیرمین پاکستان بارعابد ساقی کا کہنا ہے کہ 24 فور نیوز پر بندش کا فیصلہ فوری واپس لیا جائے،  صدر ہائیکورٹ بار طاہر نصراللہ کا کہنا ہے کہ ٹونٹی فور نیوز کی بندش برداشت نہیں کریں گے۔

صدر سپریم کورٹ بار سید قلب حسن نے اپنے ردعمل میں کہا کہ اس دور میں آزادی صحافت پر ایسے وار ہورریے ہیں جو مارشل لاء کے دور میں بھی نہیں ہوئے ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ ٹوینٹی فور کے لائسنس معطلی کا فیصلہ فوری واپس لیا جائے۔

چئیرمین ایگزیکٹو کمیٹی پاکستان بار اعظم نذیر تارڈ کا کہنا ہے کہ ہرشہری کا حق ہے کہ اس تک سچ پہنچے، کچھ عرصہ سے آزادی صحافت پر سختی کی جارہی ہے، ٹونٹی فور نیوز پر ہابندی غیر قانونی اور غیر آئینی ہے اسکی مذمت کرتے ہیں، مطالبہ کرتے ییں کہ ٹونٹی فور پر پابندی فوری واپس لی جائے۔

 

وائس چئیرمین پاکستان بارعابد ساقی کا کہنا ہے کہ موجودہ حکومت کے دور میں پیمرا آزاد اتھارٹی کے طور پر کام نہیں کررہا، اطلاعات تک رسائی آئینی حق  ہے ،ٹونٹی فور نیوز پر ہابندی کی مذمت کرتے ییں، مطالبہ کرتے ہیں کہ ٹونٹی فور نیوز کی بندش کا فیصلہ فی الفور واپس لیا

جائے۔

صدر ہائیکورٹ بار طاہر نصراللہ وڑائچ کا کہنا ہے کہ آئین و قانون کے محافظ ہیں، آزادی رائے پر قدغن غیر قانونی ہے، آزاد ی صحافت پر پابندی اور ٹونٹی فور نیوز کی بندش برداشت نہیں کریں گے۔اس دور میں آزادی صحافت پر ایسے وار ہو رہے ہیں جو مارشل لاء کے دور میں بھی نہیں ہوئے۔