سرکاری ملازمین اور مہنگائی

سرکاری ملازمین اور مہنگائی

(قیصر کھوکھر) آج کل کی مہنگائی نے سرکاری ملازمین کی کمر توڑ دی ہے اور ان کیلئے سرکاری تنخواہ میں گزارہ کرنا مشکل ہو گیا ہے اور بچوں کی ایجوکیشن اور ہیلتھ کے اخراجات پورے کرنا بھی ملازمین کیلئے دو بھر ہو چکا ہے، نجی سکولوں کی فیس اتنی زیادہ ہے کہ ایک بھی بچے کی فیس کی ادائیگی مشکل سے ہوتی ہے اور سرکاری تعلیمی ادارے معیار سے فارغ ہیں ۔ بچوں کی اچھی ایجوکیشن ضروری ہے جو کہ صرف نجی سکولوں میں ہی ممکن ہے ۔ گریڈ ایک سے گریڈ 16تک کے ملازمین تو انتہائی سفید پوشی میں گزارہ کر رہے ہیں ،ان کی ماہانہ تنخواہ بیس تاریخ کو ہی ختم ہو جاتی ہے۔

 پنجاب سول سیکرٹریٹ کے افسران اور ملازمین کو سیکرٹریٹ الائونس ملتا ہے جو کہ بنیادی تنخواہ کا ڈیڑھ گناہے جبکہ سول سیکرٹریٹ سے باہر دیگر اداروں اور ہسپتالوں میں کام کرنیوالے ملازمین اس الائونس سے محروم ہیں۔ سبزیوں، دالوں، چینی، گھی، آٹے، دودھ، کچن کی اشیاء کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں، تنخواہ میں ان اشیاء کو  خریدنا مشکل تر ہو گیا ہے، دیگراخراجات جیسے شاپنگ کرنا اور کپڑے اور جوتے خریدنا تو دور کی بات ہے ۔ ایک سرکاری ملازم جائے تو جائے کہاں ۔ اگر دوسرے شہر سے نوکری کرنے ایک سرکاری ملازم لاہور آیا ہے، تو اس کے مکان کا کرایہ الگ سے ہے اور بجلی اور گیس کے بلز تو آسمان سے باتیں کر رہے ہیں۔ پٹرول کی قیمتوں میں اچانک اضافہ کر دیا گیا ہے اور اب پبلک سواری بھی مہنگی ہو گئی ہے۔ پٹرول کی قیمتیں بڑھنے سے ہر چیز کی قیمت بڑھ گئی ہے اور مہنگائی کا ایک نیا طوفان برپا ہے۔

 پاکستان کی تاریخ میں شاید پہلی بار ہوا ہے کہ بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ نہیں کیا گیا اور اب سرکاری ملازمین سراپا احتجاج ہیں کہ ان کی تنخواہوں میں اضافہ کیا جائے۔ کرایہ الائونس نہ ہونے کے برابر دیا جا رہا ہے، حکومت کو فوری طور پر ہائوس رینٹ کی فریزنگ ختم کرکے اسے اوپن کرنا چاہئے تاکہ جن کے پاس سرکاری گھر نہیں انہیں مناست کرایہ دینے کیلئے رقم مل سکے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد جنہیں پنجاب پبلک سروس کمیشن یا دیگر سرکاری اداروں میں لاکھوں روپے ماہانہ تنخواہ پر نوکری مل جاتی ہے ۔ان کے تو موج میلے ہو جاتے ہیں، جبکہ بقایا پنشنرز درمیان میں پس جاتے ہیں۔ حکومت پاکستان اور حکومت پنجاب کو فوری طور پر تمام ضروری اشیاء کو سبسڈی پر رکھنا چاہئے تاکہ سرکاری ملازمین اور ایک عام آدمی کو بازاروں سے سستی اشیاء مل سکیں اور ان کا ماہانہ تنخواہ میں گزارہ بھی ہو سکے۔

یپکا اور پنجاب سول سیکرٹریٹ ایمپلائز ایسوسی ایشن نے حکومت سے مطالبہ کر رکھا ہے کہ وہ تمام ایڈہاک الائونس کو بنیادی تنخواہ میں ضم کرے اور مہنگائی کے تناسب سے تنخواہوں میں اضافہ کرے۔ نجی تعلیمی ادارے بند ہیں لیکن یہ ادارے والدین سے مسلسل فیس وصول کر رہے ہیں ، حالانکہ بچے گھروں میں بیٹھے ہیں۔ معیشت تباہ ہو رہی ہے اور بے روزگاری میں اضافہ ہو رہا ہے اور موجودہ کورونا کی وجہ سے مہنگائی میں مزید اضافہ ہو گیاہے اور ایک مزدور کیلئے زندگی کا پہیہ چلانا مشکل ہو گیا ہے۔ آئی ایم ایف کے مطالبہ پر حکومت نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ نہیں کیا اور حالانکہ حکومت کے وزراء ، مشیران اور ٹھنک ٹینک والے حکومت سے لاکھوں روپے کی مراعات لے رہے ہیں اور وزیر اعظم کی تنخواہ میںبھی اضافہ کر دیا گیا ہے۔

 اس مہنگائی کے دور میں ایک سرکاری ملازم کو تو بھی مہینہ کے آخر میں کچھ نہ کچھ تنخواہ کی صورت میں مل جاتا ہے لیکن ایک مزدور اور ایک محنت کش کا کیا حال ہوگا ؟اس کا اندازہ سڑکوں پر کھڑے مزدوروں کی حالت سے لگایا جا سکتا ہے ،جو روزانہ سڑک پر آ کر کھڑے ہو جاتے ہیں لیکن انہیں مزدوری نہیں ملتی ہے۔ اور وہ خالی ہاتھ شام کو واپس گھر لوٹ جاتے ہیں۔ اعلیٰ ایوانوں میں بیٹھے حکمران عام آدمی کی مشکلات سے آگاہ نہیں، اگر حکمرانوں کو عام آدمی کی مشکلات کا اندازہ ہوتا تو حالیہ بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں تھوڑا بہت اضافہ ضرور کردیتے۔غریب طبقہ مسلسل پس رہا ہے۔ان کا کوئی پرسان حال نہیں، حکومت نے احساس پروگرام کے تحت بارہ ہزار روپے تو دیئے ہیں مگر ان بارہ ہزار روپے سے کیا ہوتاہے، یہ امدادی رقم موجودہ مہنگائی کے دور میں اونٹ کے منہ میں زیرے کے برابر ہے۔

اس لئے حکومت کو چاہیئے کہ کوئی ایسی پالیسی بنائے جس سے عام آدمی کو ریلیف ملے۔ اگر حکومت تنخواہوں میں اضافہ نہیں کر سکتی تو نہ کرے،لیکن اشیائے ضروریہ کے نرخ منجمد کردے تاکہ عام آدمی کی قوت خرید متاثر نہ ہو۔ مصنوعی مہنگائی پر قابوپانے کیلئے حکومت کو بڑے فیصلے کرنے کی ضرورت ہے۔ ہرشعبے میں مافیاز کا راج ہے، چینی سے آٹے تک اور پٹرول سے گیس تک کون سا شعبہ ہے جس پر مافیاز قابض نہیں، اور یہ مافیاز حکومتی احکامات کو بھی خاطر میں نہیں لاتے، حکومت ان مافیاز کوکنٹرول کرے اور مصنوعی مہنگائی کا خاتمہ کرنے کیلئے پرائس کنٹرول مجسٹریٹس کو مزید اختیارات دیئے جائیں تاکہ وہ بہترانداز میں پرفارم کرسکیں۔ حکومت اگر عام آدمی کو ریلیف نہیں دیتی توکوئی بھی اس کی شاندار کارکردگی کا اعتراف نہیں کرے گا۔