وکلا کیلئےسمارٹ کارڈ کا منصوبہ ٹھپ، نادرا نے 64 لاکھ روپے بھی دبا لئے

وکلا کیلئےسمارٹ کارڈ کا منصوبہ ٹھپ، نادرا نے 64 لاکھ روپے بھی دبا لئے

ملک اشرف: وکالت کارڈ کی بجائے سمارٹ کارڈ جاری کرنے کا منصوبہ عدم دلچسپی کےباعث ٹھپ ہوگیا، نادرا نے وکلاء کے ہانچ سال قبل وصول کیے گئے 64 لاکھ روپے بھی دبا لئے، رقم کی واپسی کے لئے پنجاب بار کونسل کےعہدیداروں اور نادرا حکام کے مذاکرات بھی ناکام ہوگئے۔

تفصیلات کے مطابق پنجاب بار کونسل اور نادرا کے درمیان دوہزار تیرہ میں وکلاء کے سمارٹ کارڈ بنانے کا معائدہ ہوا، وکلاء کا سماعٹ کارڈ کے ذریعے عدالتوں میں داخلہ اور کیسز دائر ہونا تھے، اس منصوبے کی افتتاحی تقریب پنجاب بار کونسل میں ہوئی جس میں اس وقت کے چیف جسٹس پاکستان تصدق حسین جیلانی شریک ہوئے چیرمین نادرا امتیاز تاجور سمیت دیگر افسران بھی شریک ہوئے تھے۔

معاہدے کے مطابق نادرا نے پنجاب بار کونسل سے سمارٹ کارڈ کی فراہمی کے لئے ایک کروڑ وصول کیے،   نادرا  نے ایک سال میں ایچ ای سی کی تصدیق کے بغیر ہی 36 لاکھ کے سمارٹ کارڈ جاری کئے، وکلاء کی عدم دلچسپی کے باعث منصوبہ ایک سال بعد ہی ٹھپ ہوگئی۔ نادرا کے ذمہ تاحال پنجاب بار کونسل کے 64 لاکھ روپے واجب الاداہیں، منصوبہ کے تحت نادرا نے ایچ ای سی کی جانب سے ڈگریوں کی تصدیق کے بعد صوبہ بھر کے وکلاء کو سمارٹ کارڈ جاری کرنا تھے۔

وائس چیئرمین پنجاب بار کونسل چوہدری شاہنواز اسماعیل گوجر سمیت دیگر عہدیداروں کا کہنا ہے کہ آنہوں نے ہائیر ایجوکیشن کمیشن سے ڈگریوں کی تصدیق کروا لی ہے، انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ نادرا وکلا کے جمع کروائے گئے 64 لاکھ روپے واپس کرے۔