عارف علوی پاکستان کے تیرہویں صدر بن گئے


(سٹی 42)  تحریک انصاف کے امیدوار  ڈاکٹر عارف علوی پاکستان کے تیرہویں صدر منتخب ہوگئے ہیں،پارلیمنٹ میں مجموعی طور پر 424 ووٹ کاسٹ ہوئے جس میں عارف علوی نے 212، مولانا فضل الرحمان نے 131 اور اعتزاز احسن نے 81 ووٹ حاصل کیے۔

یہ بھی لازمی پڑھیں:نیوز بلیٹن3بجے 13 نومبر 2018  

تفصٰیلات کے مطابق پاکستان کے تیرہویں صدر کے انتخاب کیلئے پارلیمنٹ ہائوس اسلام آباد اور چاروں صوبائی اسمبلیوں میں پولنگ  ہوئی، جس میں سینیٹ، قومی اور چاروں صوبائی اسمبلیوں کے ارکان نے اپنا  حقِ رائے دہی استعمال کیا۔ پنجاب اسمبلی میں 354 میں سے 351 ارکان نے ووٹ کاسٹ کیا،  اسی طرح  سندھ اسمبلی میں 163 میں سے 158 ووٹ کاسٹ ہوئےجبکہ بلوچستان اسمبلی میں عارف علوی نے 46 اور مولانا فضل الرحمان نے 15 ووٹ حاصل کیے جبکہ پیپلز پارٹی کی اسمبلی میں کوئی نمائندگی نہیں اس لیے اعتزاز احسن کو کوئی ووٹ نہیں ملا۔

خیبر پختونخوا اسمبلی کے تمام 112 ارکان نے ووٹ کاسٹ کئے، صوبائی اسمبلی میں تحریک انصاف کو اکثریت حاصل ہے، جس کی وجہ سے عارف علوی کو 78، مولانا فضل الرحمان کو 26 اور اعتزاز احسن 5 ارکان نے ووٹ دیا۔ خیبر پختونخوا اسمبلی سے عارف علوی 41 ، مولانا فضل الرحمان کو 14 جبکہ اعتزاز احسن کو 3 الیکٹورل ووٹ ملے۔

واضح رہے کہ صدراتی انتخاب کیلئے تحریک انصاف کے عارف علوی، پیپلز پارٹی کی جانب سے اعتزاز احسن اور مسلم لیگ (ن) سمیت متحدہ اپوزیشن کی جانب سے مولانا فضل الرحمان کے درمیان مقابلہ ہوا تھا۔

یہ بھی لازمی پڑھیں:شہباز شریف کو ٹھنڈ لگ گئی

صدر کے انتخاب کا طریقہ کار

آئین کے تحت صدر کا انتخاب خفیہ رائے شماری کے ذریعے ہوتا ہے، اس کیلئے مجموعی طور پر  1500بیلٹ پیپرز چھاپے گئے ہیں، سفید رنگ کے بیلٹ پیپرز واٹر مارکڈ ہیں، جن پر 3 امیدواروں کے ناموں کے سامنے خالی خانہ چھاپہ گیا۔

آئین میں صدر مملکت کے انتخاب کے طریقہ کار کے مطابق سینیٹ ،  قومی اسمبلی اور بلوچستان اسمبلی کے ایک رکن کا ایک ووٹ ہوتا ہے  یعنی سینیٹ میں صدارتی ووٹوں کی تعداد 104، قومی اسمبلی میں 342 اور بلوچستان اسمبلی میں 65 ووٹ ہیں۔صدارتی انتخاب میں صوبوں کی برابر نمائندگی کے لئے  پنجاب ، سندھ اور خیبر پختونخوا اسمبلیوں کے ووٹوں کی تعداد بھی پینسٹھ پینسٹھ ہی رکھی گئی ہے ۔

واضح رہے کہ پنجاب اسمبلی کے ارکان کی مجموعی تعداد 371 ہے لیکن ان کے ووٹ بلوچستان اسمبلی کے ووٹوں کے برابر کرنے کیلئے پنجاب اسمبلی کے5.70 ارکان کا ایک صدارتی ووٹ شمارہو گا،  سندھ اسمبلی کے ارکان کی تعداد 168 ہے،  تاہم صدر کے انتخاب میں سندھ اسمبلی کے 2.58 ارکان کا ایک ووٹ تصور کیا جائے گا ۔ خیبرپختونخوا اسمبلی کے 124 ارکان ہیں،  صدر کے انتخاب میں کے پی اسمبلی کے 1.90 ارکان کا ووٹ ایک مانا جائے گا۔ یوں پاکستان کے نئے صدر مملکت منتخب ہوں گے