بیوروکریسی میں تبدیلی اورمایوسی کی ہواچل پڑی

بیوروکریسی میں تبدیلی اورمایوسی کی ہواچل پڑی

(قیصر کھوکھر ) بیوروکریسی میں تبدیلی اورمایوسی کی ہواچل پڑی،بیوروکریٹس میں سرکاری شعبہ چھوڑکرنجی شعبوں میں جانےکارجحان بڑھنےلگا،مستقبل میں اچھے افسروں کی قلت کاخدشہ ہے بیوروکریسی کے اِس رجحان سے پردہ اُٹھا رہے ہیں.

 تفصیلات کے مطابق بیوروکریسی میں سرکاری ملازمت کی بجائے پرائیویٹ شعبے میں خدمات دینے کا رجحان فروغ پانے لگا۔متعدد افسران کمپنیوں یاپرائیویٹ اداروں میں خدمات سرانجام دینے کوترجیح دے رہے ہیں۔سابق ڈی سی سیف اللہ ڈوگرنےڈیفڈجوائن کرلیا۔اسی طرح سابق ڈی سی راولپنڈی عمر جہانگیر بھی ڈیفڈ چلے گئے ہیں۔سابق سپیشل سیکرٹری عثمان احمدچودھری بھی ڈیفڈجوائن کرچکے ہیں۔ادھرکیپٹن (ر)اعظم سلیمان خان بھی ملازمت چھوڑ کر صوبائی محتسب تعینات ہیں۔اعظم سلیمان خان دورانِ سروس ہی ریٹائرمنٹ لیکرصوبائی محتسب تعینات ہوئے ہیں۔

جاویدمحمودقبل ازوقت ریٹائرمنٹ لیکرسیاست میں چلے گئے،ماضی میں فاروق لغاری،خالدکھرل اور ڈاکٹرامجدثاقب بھی سروس چھوڑگئے، بیرسٹر ظفراللہ ،رانانسیم احمد،شفقت محمودنےبھی سول سروس کوخیرباد کہہ دیا۔اعلیٰ افسرعلی طاہرسرکاری ملازمت سے چھٹی لے کر بیرون ملک نوکری کرتے رہے ہیں۔

بیوروکریسی میں فروغ پاتے اس رجحان کو روکنے کیلئے پالیسی سازی نہ کی گئی تومستقبل میں حکومت کو اچھے افسران کی قلت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ماضی میں فارق لغاری اور خالد کھرل نے سرکاری سول سروس چھوڑ کر سیاست کا شعبہ اختیار کیا۔ ڈاکٹرامجد ثاقب نے سول سروس چھوڑ کر اپنی ایک این جی اوچلا رہے ہیں۔

زبیر بھٹی نے ڈی سی جھنگ کی جاب چھوڑ کر وہ ورلڈ بینک میں چلے گئے۔ جہاں پر انہیں بہتر مستقبل ملا اور ڈالروں میں تنخواہ لے رہے ہیں ۔ سابق سیکرٹری زراعت رانا نسیم احمد نے سول سروس کو چھوڑ کر جہانگیر ترین کے ساتھ نتھی ہو گئے اور ان کا بزنس سنبھال لیا اور لاکھوں روپے تنخواہ لی۔ وفاق وزیر شفقت محمودنے بھی سول سروس کو چھوڑا ہوا ہے اور وہ آج کل وفاقی وزیر ہیں۔ بیرسٹر ظفر اللہ نے بھی دوران سروس ہی سول سروس کو چھوڑا ہوا ہے۔