کورونا : آپ بیتی

Coronavirus
Coronavirus

( نوید چودھری) رمضان المبارک کی آمد سے قبل پیر دن تھا ,  حسب معمول نیند سے بیدار ہوا تو جسم میں درد محسوس ہوا ,  کسی قسم کا شک محض اس لیے نہیں ہوا کہ چند ہفتے پیشتر ویکسینیشن کرا چکا تھا اور اینٹی باڈی ( کورونا سے مدافعت ) کی رپورٹ بھی آچکی تھی ـ تین گھنٹے تاخیر سے دفتر چلا گیا اور معمول کے مطابق کام کرتا رہا ـ جسم کا درد بڑی حد تک کم ہوگیا تاہم تھکاوٹ کا احساس تھا ـ روزے شروع ہوگئے ـ

  کورونا کے ٹیسٹوں کے لیے طبی عملہ دفتر آیا تو سوچا اگرچہ کوئی چانس  تو نہیں مگر سمپل دینے میں ہرج ہی کیا ہے سو ٹیسٹ کرالیا۔ دفتر میں جمعہ کی شب نماز تروایح ادا کرکے اپنے کمرے میں آیا ـ ابھی موبائل چیک کرنے ہی لگا تھا کہ میرے کو لیگ چینل 24 نیوز کے ڈائریکٹر نیوز میاں طاہر لپک کر دروازے پر آئے اور بتایا کہ میرا کورونا ٹیسٹ پازیٹو آگیا ہے ، شدید حیرت ہوئی،بہر حال اس صورت میں دفتر مزید رکنا کسی طور مناسب نہ تھا ، دفتر سے واپس آنے کے لیے نکلا تو مشورہ دیا گیا کہ ایک مستند سمجھی جانے والی نجی لیب سے بھی ٹیسٹ کرالیں، سو سیدھا جیل روڈ پر واقع اس لیبارٹری میں پہنچا اور وہاں بھی سمپل دے دیا، گھر آکر اوپر والی منزل پر چلا گیا اور خود کو ایک کمرے میں بند کرلیاـ

 اگلی صبح اس لیبارٹری کی رپورٹ آئی تو خدشے کی تصدیق ہوگئی، مجھے زیادہ علامات تو نہیں تھیں پھر بھی ضروری خیال کیا کہ تمام گھر والوں کے ٹیسٹ کرا لیے ، جب ٹیسٹ کرآئے تو گھر کے ایک اور فرد کی رپورٹ پازیٹو آگئی ، میری طرح میرے بیٹے کو بھی زیادہ علامات نہیں تھیں ، ڈاکٹروں کی ہدایات پر ادویات کا استعمال  شروع کردیا  اور گھر والوں کا سٹی سکین بھی کرایا ، میری اہلیہ کی رپورٹ میں معمولی سے خرابی کی نشاندہی ہوئی، بغیر کسی تاخیر کے ڈاکٹر آن لائن سے رابطہ کرلیا ، انہوں نے ادویات کے ساتھ چند انجیکشن تجویز کیے،  اسی شام یہ ٹریٹمنٹ بھی شروع ہوگیا، بھرپور علاج ،مکمل احتیاط اور اچھی خوراک کے ساتھ مرض سے چھٹکارے کی جانب بڑھ رہے تھے ـ سب کی طبعیت بہتر دیکھ کر لیبارٹری والوں سے رابطہ کیا کہ اگلے روز گھر آکر سمپل لے جائیں ـ

 اسی شب اچانک میری اہلیہ نے شکایت کی کہ وہ گھٹن محسوس کررہی ہیں ـ کمرے میں اے سی اور پنکھا دونوں آن تھے ـ تشویش ہوئی تو آکسی میٹر ( جسم میں آکسیجن کی مقدار جانچے والا آلہ ) استعمال کیا ـ معلوم ہوا کہ آکسیجن کم ہورہی ہے ـ طبی ماہرین اسے خطرے کی گھنٹی قرار دیتے ہیں ـ سو اب انتظار کرنے کا موقع  نہیں تھا ، اہلیہ کو گارڈن ٹائون  فیروز پور پر واقع ایک معروف نجی ہسپتال میں لے گئے ـ ڈاکٹروں نے چند گھنٹے ایمرجنسی وارڈ میں رکھنے کے بعد کورونا وارڈ  میں داخل کرلیا ـ کورونا کے علاج کے حوالے سے اس ہسپتال کی شہرت بہت اچھی تھی ـ میری بھابھی اور ایک کو لیگ نے بھی یہیں سے علاج کرایا تھا اور صحت یاب ہوئے تھے ـ تشویش اور تسلی کی ملی جلی کیفیت میں میری اہلیہ کا علاج شروع ہوا ـ ابتدائی دو دنوں میں مطلوبہ نتائج نہیں ملےـ

 مرض کے ماہر ڈاکٹر نے ایک انجیکشن تجویز کیا جو خاصا مہنگا تو تھا ہی مگر مارکیٹ سے غائب بھی تھا ـفیملی سمیت میرے ساتھ پیش آنے والے ان واقعات اور مشکلات میں دفتر ایک لمحے کو بھی الگ نہیں رہا ـ انجیکشن کی تلاش میں اپنی دوستوں کو اور مختلف فارمیسز کے مالکان کو فون کیے تو پتہ چلا کہ مطلوبہ انجکشن دستیاب نہیں ـ ڈاکٹر صاحبان اسی انجیکشن کے فوری استعمال پر زور دے رہے تھے ـ مسلسل رابطے میں رہنے والے سی ای او محسن نقوی صاحب اس مشکل سے آگاہ تھے ـ انہوں نے اطلاع ملتے ہی ذاتی طور پر کاوشیں شروع کردیں ـ ان کی یہ محنت چند گھنٹوں کے بعد رنگ لائی اور مجھے بتایا گیا کہ مطلوبہ انجیکشن کا انتظام ہو گیا ہےـ

دل کو قرار اس وقت آیا جب میرے دفتر کے ایک ساتھی نے ہسپتال میں ہمارے کمرے کے دروازے پر دستک دی  اورانجیکشن میرے حوالے کردیئے ـ میں نے فوری طور ڈاکٹر صاحبان کو آگاہ کیا ـ یہ انجیکشن ایک دن کے وقفے سے دو حصوں میں لگایا جاتا ہے ـ پھر اس کا ریسپانس 48 گھنٹوں کے بعد آتا ہے ـ انجیکشن کی پہلی ڈوز اور دیگر تمام ادویات کے استعمال کے بعد اہلیہ کی طبیعت میں بہتری آثار نظر نہیں آئے ـ ایک جونیئر ڈاکٹر نے مضطرب چہرے کے ساتھ کہا کہ صورتحال یہی رہی تو مریضہ کو آئی سی یو میں شفٹ کرنا پڑے گا ـ وہ بہت اذیت ناک رات تھی ـ

 سامنے موجود میٹر کی سکرین جسم میں آکسیجن کی گھٹتی بڑھتی مقدار نمایاں کرکے دل کی دھڑکنوں کو بے ترتیب کررہی تھی ـ پھر رات کے پچھلے پہر دعائوں کی قبولیت کے اثرات نظر آنا شروع ہوگئےـ اگلی صبح ڈاکٹروں نے معائنہ کرنے کے بعد خوشخبری سنائی کہ ایک دو دنوں میں گھر جانے کی تیاری کرلیں ـ بالا آخر امتحان کی یہ گھڑی ٹلی ـ یہ سطور تحریر کیے جانے تک میری اہلیہ آکسیجن سپورٹ کے ساتھ گھر آچکی ہیں اور ان کا علاج جاری ہے اور ہم سب اہل خانہ ان کی تیمار داری کر رہے ہیں ـ  طبی عملے کی جزو وقتی خدمات بھی حاصل کی گئی ہیںـ اللہ تعالی نے بے حد کرم کیا ـ اس کے باوجود ایک ڈرائونے

 خواب کی طرح یہ مناظر میری آنکھوں کے سامنے گھوم رہے ہیں ـ ماں جیسی بڑی بہن کو پچھلے سال اسی مرض کے ہاتھوں کھو چکا ہوں ـکئی قریبی دوست بھی اسی موذی وائرس کے سبب دنیا چھوڑ گئے ـ یہ عظیم المیہ ہے کہ اس وائرس کی ہلاکت خیز یوں کے وقت ہمارے ملک پر وہ حکومت مسلط ہے کہ جس کی کوئی واضح پالیسی ہے نہ گورننس ـ اب تک قوم کوجتنابھی نقصان ہوا یا بچائو ہوا وہ محض اوپر والے کا کرم ہے ـ سرکاری ہسپتالوں کے حالات دیکھیں تو کلیجہ منہ کو آتا ہے ـ کب سے یہ وبا پاکستان پر مسلط ہے مگر ہمارے مسخرے حکمران ویکسین تک نہیں بنا سکے ـ باہر سے مانگ تانگ کر منگوائی جارہی ہے یا پھر بین الاقوامی امداد کا انتظار کیا جارہا ہے ـ خود این سی او سی کی کارکردگی اس قدر ناقص ہے کہ شہباز شریف جیسے اسٹبلشمنٹ دوست سیاستدان بھی جیل سے باہر آتے ہی پھٹ پڑے ـ

 جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق کا دعویٰ ہے کہ کو رونا کے سلسلے جمع ہونے والے مجموعی رقم میں سے صرف 13 فیصد مریضوں پر صرف ہوا باقی سب حکومت کھا گئی ـ کرپشن کا سلسلہ پچھلے برس وبا کے آغاز سے جاری ہے ـ اس وقت سپریم کورٹ کے جج حضرات بھی دنگ رہ گئے تھے جب این سی او سی کی جانب سے بتایا گیا کہ فی مریض 25 لاکھ روپے خرچ کیے گئے ہیں ـ یہ بھی حقیقت ہے کہ ہمارے ہاں وائرس کے متاثرین اور اموات کے اعداد و شمار درست نہیں ـ پچھلے سال بھی جب سرکاری  ہسپتالوں میں لوگ دھڑا دھڑ مر رہے تھے ـ سرکاری طور پر تیار کردہ ڈیٹا کچھ اور ہی بتا رہا تھا ـ

 زمینی حقیقت تو یہ ہے کہ اس وقت بھی اگر کوئی سرکاری یا نجی تنظیم کوئی کام کررہی ہے تو چند افراد کا عمل ہے جو خدمت خلق اور خوف خدا کے باعث ہے ـ حکومت کا کچھ لینا دینا نہیں ـ یہ بات آپ ـ میں ـ سب ہی جانتے ہیں کو رونا لاک ڈائون کی نام نہاد پابندیوں کے باوجود بازاروں میں رش اور لوگوں کا میل جول اسی طرح سے ہے جیسے معمول کے دنوں میں تھا ـسو آج سے ہی عہد کرلیں کہ جو کرنا ہے خود کرنا ہے ـ  پڑھنے والوں سے یہی درخواست ہے کہ کو رونا کو ہر گز غیر سنجیدہ نہ لیں ـ تمام احتیاطی تدابیر لازمی اختیار کریں ـ باہمی میل جول کم رکھیں