حکومت ایک بار پھر عوام پر پٹرول بم گرانے کو تیار


(سٹی 42) مشیر خزانہ نے عوام پر مہنگائی کا پہلا وار کردیا، اقتصادی رابطہ کمیٹی نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھانے کی منظوری دیدی، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافےکی سفارش کو عوام نے مسترد کردیا۔

ماہ رمضان کی آمد آمد ہے لیکن حکومت کی جانب سے عوام کو ریلیف دینے کی بجائے پٹرول بم گرانے کا منصوبہ تیار کرلیا گیا، مشیر خزانہ حفیظ  شیخ کی زیر صدارت  اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس ہوا جس  میں پٹرول کی قیمت میں 9 روپےاضافہ کر کے 108 روپے فی لیٹر اور ڈیزل کی قیمت میں 5 روپے فی لیٹر اضافہ کرنے کی منظوری دی گئی ہے، نئی قیمتوں کا اطلاق کابینہ سے منظوری اور سمری پر وزیراعظم کے دستخط کے بعد ہوگا۔

ای سی سی اجلاس میں پٹرول 14 روپے 37 پیسے فی لیٹر مہنگا کر کے 113 روپے لیٹر کرنے کی سفارش کی گئی تھی، تاہم ای سی سی نے 108 روپے فی لیٹر کرنے کی منظوری دی ہے۔

پٹرول کی قیمتیں بڑھنے پر شہریوں نے برہمی کا اظہار کیا، ان کا کہنا تھا کہ عمران حکومت عوام کو ریلیف فراہم کرنے میں ناکام ہوچکی ہے، غریب آدمی کیلئے زندگی سہل ہونے کے بجائے کٹھن ہو گئی۔