کراچی سے لاہور آنے والی ٹرین حادثے کا شکار

کراچی سے لاہور آنے والی ٹرین حادثے کا شکار

(سعیداحمدسعید) کراچی سے لاہور آنے والی ٹرین شالیمار ایکسپریس جٹھہ بھٹہ ریلوے سٹیشن کے قریب مال گاڑی سے ٹکراگئی،خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، سی ای او ریلوے کی جانب سے 3رکنی انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی گئی۔

تفصیلات کے مطابق حادثے کے نتیجے میں ڈرائیور اور اسسٹنٹ ڈرائیور معمولی زخمی ہوئے ، جبکہ خوش قسمتی سے تمام مسافر محفوظ ہیں،مال گاڑی کی 2 کوچز اور شالیمار ایکسپریس کے انجن کی فرنٹ ٹرالی ڈی ریل ہوگئی۔ سمہ سٹہ اور روہڑی سے ریلیف ٹرین جائے حادثہ کی طرف روانہ کر دی گئی ہیںاور سی ای او ریلوے دوست علی لغاری کی ہدایت پر ڈی ایس ملتان جائے حادثہ کی طرف روانہ ہوگئے ہیں ۔

دوسری جانب ٹرین حادثہ پر سی ای او ریلوے دوست علی لغاری نے تین رکنی انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی ہے، انکوائری کمیٹی کے ممبران میں سی او پی ایس عامر بلوچ، چیف انجینئرارشاد الحق اور چیف مکینیکل لوکوموٹیو عبدالمالک شامل ہیں، کمیٹی اڑتالیس گھنٹے میں ابتدائی انکوائری رپورٹ سی ای او کو پیش کرے گی۔

ترجمان ریلوے کے مطابق حادثے کے بعد سی ای او ریلوے نے ڈی ٹی او ملتان نصیر نیازی اور ڈی ایس سی ملتان محمد خضر کو فوری طور پر معطل کرکے قانون کے مطابق کارروائی کا حکم دے دیا گیاہے۔

 واضح رہے کہ گزشتہ روز کراچی سے لاہور آنے والی شاہ حسین ایکسپریس فاروق آباد کے قریب مسافر کوسٹر کے ساتھ ٹکرا گئی، کوسٹر میں 25 سکھ یاتری سوار تھے، جن میں سے 19 سکھ یاتری موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے، جبکہ چھے سکھ یاتری شدید زخمی ہوئے، جن کو سرکاری ہسپتال منتقل کر دیا گیا، ترجمان ریلوے کے مطابق شاہ حسین ایکسپریس شیخوپورہ کے قریب فاروق آباد جاتری روڈ ان مینڈ لیول کراسنگ پر حادثہ پیش آیا، جائے وقوعہ سے چند میٹر کے فاصلے پر مینڈ پھاٹک موجود تھا جو کہ ٹرین کے گزرنے کے لیے بند تھا، مگر کوسٹر ڈرائیور کی جانب سے ٹرین کے گزرنے کا انتظار کیے بغیر بند پھاٹک سے تھوڑا دور ان مینڈ لیول کراسنگ سے گزرنے کی کوشش کی گئی جس دوران یہ حادثہ پیش آیا، حادثے کے فوری بعد چیئرمین کی ہدایت پر ڈویڑنل انجینئر فرحت عباس کو معطل کر دیا گیا ہے۔