طالبات کو ہراساں کرنیوالے اساتذہ کیخلاف مقدمہ درج

طالبات کو ہراساں کرنیوالے اساتذہ کیخلاف مقدمہ درج

( عرفان ملک ) لاہور کے نجی سکول میں طالبات کو ہراساں کرنے والے پانچ اساتذہ خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا، مقدمے میں ٹیلی گراف ایکٹ سمیت سنگین دفعات شامل کی گئی ہیں۔

طالبات کو جنسی طور پر ہراساں کرنے والےاساتذہ اور عملے کے پانچ ارکان کے خلاف مقدمہ چائلڈ پروٹیکشن بیوروکی درخواست پر درج کیا گیا۔ تھانہ غالب مارکیٹ میں درج مقدمے میں اعتزاز رحمان، زاہد وڑائچ، عمر شریف، شہزاد ارشاد اور عبدالقدوس کو نامزد کیا گیا ہے۔ مقدمہ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ملزمان چار پانچ سال سے طالبات کو ہراساں کر رہے تھے۔

چائلڈ پروٹیکشن آفیسر کی مدعیت میں درج مقدمے میں کہا گیا ہے کہ ملزمان نے نجی سکول کی طالبات کو سوشل میڈیا پر فحش تصاویر اور غیر اخلاقی میسجز کیے تھے۔

دوسری جانب گزشتہ روز سکول انتظامیہ نے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹی کی تشکیل کردہ انکوائری کمیٹی کو طالبات کے فون نمبرز اور ایڈریس دینے سے انکار کر دیا تھا۔ سکول انتظامیہ کا کہنا تھا کہ سکول اس معاملے پر پہلے ہی انکوائری کر رہا ہے۔ سکول طالبات کی ذاتی معلومات کو شیئر نہیں کر سکتا۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ کورونا کے خطرے کے پیش نظر بڑے پیمانے پر والدین، طالبات اور معطل کیے گئے سٹاف کو انکوائری کے لیے ایک ساتھ نہیں بلوا سکتے۔

 واضح رہے وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نےواقعہ پر نوٹس لیتے ہوئے انکوائری کا حکم دیا تھا۔ اس حوالے سے سی سی پی او زولفقار حمید سے رپورٹ طلب کر لی تھی۔ وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ  طالبات کو جنسی ہراساں کیے جانے کے واقعات ناقابلِ برداشت ہیں، ذمے دار عناصر کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔ ہراساں کی گئی طالبات کو ہر قیمت پر انصاف فراہم کیا جائے گا۔