نوجوان نے سرمیں گولی مار کر زندگی کا خاتمہ کر لیا

نوجوان نے سرمیں گولی مار کر زندگی کا خاتمہ کر لیا

(فخرامام)خودکشی کے بڑھتے ہوئے رجحان نے شہر میں خوف و ہراس کی فضا طاری کردی ہے۔ ہر روز کوئی نہ کوئی شخص اپنے ہاتھوں سے موت کو گلے لگا لیتا ہے۔ جوہر ٹاؤن میں اقساط ادا نہ کر سکنے پر نوجوان نے خودکشی کرلی۔

تفصیلات کے مطابق خودکشی کی وجوہات گھریلو جھگڑے، جہالت اور ذہنی تناؤ ہے۔ زیادہ تر واقعات ذاتی و گھریلو مسائل کہ وجہ سے رونما ہوتے ہیں, خودکشی کرنے والوں میں ان پڑھ افراد کے ساتھ  پڑھے لکھے نوجوانوں کی اکثریت شامل ہیں۔لاہور میں جوہر ٹاؤن کے علاقہ بیڑ گاؤں میں خودکشی بھی خودکشی کا ایسا ہی واقعہ پیش آیا جہاں نوجوان نے اپنے ہاتھوں زندگی کا خاتمہ کرلیا۔

بیڑ گاؤں کے رہائشی 32 سالہ نیاز نے دوست کو موبائل اقساط پر لے کر دیا تھا۔دوست قسطوں کی ادائیگی نہ کر سکا تو دکاندار نے نیاز سے قسطوں کا مطالبہ کیا۔آج گھر کے قریب قسطوں والے سے جھگڑا ہوا۔نیاز نے دلبرداشتہ ہوکر سر میں گولی مار کر زندگی کا خاتمہ کر لیا۔پولیس نے لاش کو ڈیڈ ہاوس منتقل کر دیاہے۔

دوسری جانب ماہرین کے مطابق اور بھی مسائل ہوتے ہیں جن کی وجہ سے انسان یہ سنگین قدم اٹھانے پر تیار ہوجاتا ہے قانونی وجوہات بھی اس شامل ہیں  اور اس امر کی نگرانی کرنے کے لیے بھی کوئی نظام موجود نہیں کہ جو سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں وہ معیار کے مطابق ہیں یا نہیں۔

اس بات کو تسلیم کیا جا رہا ہے کہ ڈپریشن نامی مرض بہت سارے مسائل کے مجموعے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ خاص طور پر خود کشی کی کوشش اعصابی تبدیلیوں کے باعث ہوتی ہے جو ان لوگوں میں نہیں پائی جاتی جو مختلف اقسام کے ڈپریشن میں مبتلا ہوتے ہیں۔

جدید تحقیق کے مطابق وہ بیماری جسے ہم ' ڈپریشن' کے نام سے جانتے ہیں، وہ دراصل کئی مختف بیماریوں کا مجموعہ ہے، جن کی مختلف دماغی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ رواں سال میں مختلف وجوہات کی بنا پر پندرہ افراد نے موت کو گلے سے لگا لیا۔