شہباز شریف سمیت دیگر لیگی رہنماؤں کی 24 نیوز کا لائسنس معطل کرنیکی مذمت


(عمرا سلم)صدرمسلم لیگ (ن) میاں محمد شہباز شریف کی جانب سے ٹوئنٹی فور نیوز کےلائسنس معطل ہونے کی مذمت، کہتے ہیں کہ سچ کی آواز کو دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے، ن لیگی رہنما احسن اقبال، مریم اورنگزیب سمیت دیگر نے بھی پیمرا کے فیصلے کو ناانصافی پر مبنیٰ قرار دے دیا۔

مسلم لیگ (ن)کے صدر میاں محمد شہباز شریف، مریم اورنگزیب سمیت دیگر لیگی رہنماؤں نے 24 نیوز چینل کا لائسنس معطل کرنے کی شدید الفاظ میں مذمت کی، شہباز شریف نے کہا کہ ٹوئنٹی فور نیوز نے ہمیشہ حق سچ کی آواز کو بلند کیا، حکومتی اقدام آزادی صحافت پر حملہ ہے۔

انہوں نے کہاکہ ٹوئنٹی فور نیوز نے ہمیشہ سچ کو عوام تک پہنچایا ہے، جو موجودہ حکمرانوں کو برداشت نہیں،جبکہ ٹوئنٹی فور نیوز کا لائسنس معطل کرنا آزادی ِصحافت پر حملے کے مترادف ہے، میڈیا ریاست کا اہم ستون ہےاور اس طرح کے حکومتی اقدامات قابل مذمت ہیں۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب نے 24 نیوز کی بندش کی شدید مذمت کرتے ہوئے چینل کی فوری بحالی کا مطالبہ کیا ہے، ان کا کہنا ہے کہ 24 نیوز کا موقف سنے بغیر اسے آف ائیر کرنا ظلم، زیادتی اور فسطائیت ہے، عمران صاحب کی حکومت جن کندھوں پر بیٹھ کر آئی، انہیں ہی کاٹ رہی ہے، میڈیا صنعت تباہ کرنے کے بعد کورونا کی خراب صورتحال میں مزید بیروزگاری پھیلائی جارہی ہے، حکومت ان چینلز، میڈیا ہاؤسز، صحافیوں اور مالکان کو نشانہ بنارہی ہے جو سچ بولتے ہیں،قانون کا یکساں اطلاق نہیں، واضح امتیازی رویہ حکومتی تعصب کو عیاں کررہا ہے۔

مریم اورنگزیب نے کہا کہ حکومت کو ان سب اداروں، افراد اور شخصیات سے مسئلہ ہے جو اس پر تنقید کرے، تنقید سے گھبرائی حکومت کے لئے آسان راستہ، چینل، زبان اور ادارہ بند کرنا رہ گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ نئے پاکستان میں فسطائی سوچ اور ہتھکنڈے عروج پر ہیں، بیروزگاری کے سونامی میں 24 نیوز کی بندش سے مزید اضافہ کیا جارہا ہے، 24 نیوز کی بندش، میرشکیل الرحمن کی ناحق گرفتاری، اور دیگر اینکرز کی تحریر اور پروگراموں پر پابندی ثبوت ہے کہ حکومت جمہوری نہیں۔

مسلم لیگ (ن)  کے رہنما خواجہ عمران نذیر  نے  پیمرا کے اقدام کی شدید مذمت کی ہے اور انہوں نے اپنے ٹویٹر پیغام میں کہا کہ پیمرا کی وساطت سے حکومت نے آزادی صحافت پر ایک اور وار کیا ہے کہ 24 فور نیوز کے لائسنس کی معطلی حکومت کی آمرانہ سوچ کی عکاس ہے۔

۔