میڈیکل کالجز میں داخلوں کے حوالے سےاہم خبر

Lahore high court & Medical Colleges admission
Lahore high court & Medical Colleges admission

 ویب ڈیسک :  لاہور ہائیکورٹ نے میڈیکل داخلوں کے لیے ایکولینس سرٹیفکیٹ فارمولا کے خلاف اور میڈیکل داخلوں کے لئے ابتدائی میرٹ لسٹیں روکنے کی متفرق درخواست مسترد کردی ۔ عدالت نے انٹر بورڈ کمیٹی آف  چیئرمین کی جانب سے ایکولینس سرٹیفکیٹ کے اجراء کے طریقہ کار درست قرار دے دیا۔

 لاہورہائیکورٹ کے جسٹس شمس محمود مرزا نےداخلے کے امیدوار محمد سلمان کی درخواست پر حکم جاری کیا۔درخواست گزار کی جانب سے وفاقی حکومت ،،یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز ،آئی بی سی سی سمیت دیگر کو فریق بناتے ہوئےمؤقف اختیار کیا کہ میڈیکل داخلوں کیلئے آئی بی سی سی ایکولینس سرٹیفکیٹ فارمولاکالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی تھی ، مؤقف اختیار کیا کہ درخواست گزار نے او لیول ،اور اے لیول میں اے سٹار نمبرز حاصل کیے۔پورے پاکستان میں فزکس میں ٹاپ کیا۔میڈیکل انٹری ٹیسٹ میں 210 میں سے 177 نمبر حاصل کیے۔۔نیشنل یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز اور آغا خان یونیورسٹی میں انٹری ٹیسٹ اعلیٰ نمبر سے پاس کیے۔۔انٹر بورڈ کمیٹی آف چئیرمین نے ایکولینس فارمولا کے تحت 93 فیصد نمبرز کی حد مقرر کررکھی ہے۔

پنجاب بھر کے بورڈز آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن نے ایف ایس سی کے طلبہ کو سو فیصد نمبر دیئے۔ پنجاب بھر میں میڈیکل کالجز میں سیٹسز کی تعداد تین ہزار پانچ سو ہے۔ایف ایس سی میں بورڈ ز کی جانب سے سو فیصد نمبرز دئیےجانے کی وجہ سے یہ تمام سیٹیں ایف ایس سی کے طلبہ حقدار ٹھہریں گے۔درخواست گزار سمیت اے لیول کرنے والے ہزاروں طلبہ 93 فیصد قدغن کی وجہ سے داخلوں سے محروم رہ جائیں گے۔درخواست گزار کی جانب سے استدعا کی گئی کہ میڈیکل داخلوں کے لیے انٹر بورڈ کمیٹی آف چیئرمین کے ایکولینس سرٹیفکیٹ کا فارمولاکالعدم قرار دیا جائے ۔مزید استدعا کی گئی کہ کیس کے حتمی فیصلے تک یو ایچ ایس کو3 دسمبر کومیڈیکل داخلوں کے ابتدائی میرٹ لسٹ جاری کرنے سے روکنے کا حکم۔دیا جائے۔ جس پر لاہور ہائیکورٹ نے میڈیکل داخلوں کے لیے ایکولینس سرٹیفکیٹ فارمولا کے خلاف اور میڈیکل داخلوں کے لئے ابتدائی میرٹ لسٹیں روکنے کی متفرق درخواست مسترد کردی ۔ عدالت نے انٹر بورڈ کمیٹی آف  چیئرمین کی جانب سے ایکولینس سرٹیفکیٹ کے اجراء کے طریقہ کار درست قرار دے دیا۔