حکومت اور آئی جی کو دس روز کی مہلت

حکومت اور آئی جی کو دس روز کی مہلت

( ملک اشرف ) چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ محمد قاسم خان نے ریمارکس دئیے کہ پولیس بھرتی کیلئے اپنے ہی قانون کو پیروں تلے روند رہی ہے، جیسے غریبوں کو کیسوں میں گھسیٹتی ہے، پولیس نے بہت اَت مچائی ہوئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس ہائیکورٹ محمد قاسم خان نے شہری شاہنواز سمیت دیگر کی درخواست پر سماعت کی۔ سی سی پی پی او ذوالفقار حمید، ڈی پی او شیخوپورہ صلاح الدین غازی اور ڈی پی او اوکاڑہ عمر سعید ملک عدالت پیش ہوئے۔ درخواستگزاروں کی جانب سے ملک اویس خالد جبکہ پنجاب حکومت کی جانب سے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل ملک عبد العزیز پیش ہوئے۔

وکیل نے موقف اختیار کیا کہ درخواستگزاروں نے لاہور اور شیخوپورہ کے اضلاع میں پولیس کانسٹیبل کی بھرتی کیلئے درخواستیں دیدی۔ تحریری امتحان اور میڈیکل ٹیسٹ پاس کرنیوالے اُمیدواروں کو ویٹنگ لسٹ میں رکھ لیا گیا۔ ویٹنگ لسٹ والوں کو بھرتی کرنے کی بجائے محکمہ پولیس نے نئی بھرتیاں شروع کردیں۔ استدعا ہے عدالت ویٹنگ لسٹ والے امیدواروں کو پولیس کانسٹیبل بھرتی کرنے کا حکم دے۔

پنجاب حکومت کی جانب سے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل ملک عبد العزیز نے جواب جمع کروایا لیکن چیف جسٹس کے بار بار استفسار کے باجود عدالت کو مطمئن نہ کرسکے، جس پر چیف جسٹس محمد قاسم خان نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پولیس خوف خدا کرے، اپنے ہی بنائے ہوئے رولز کو روند رہی ہے،‏ اب یہ تماشا نہیں ہوگا اور ذمہ دار کو بھاری جرمانے کریں گے۔

ہائیکورٹ نے ویٹنگ لسٹ والے امیدواروں کو کانسٹیبل بھرتی نہ کرنے کیخلاف درخواست میں پنجاب حکومت، آئی جی پولیس سمیت دیگر کو جواب کیلئے دس روز کی مہلت دیتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔