آن لائن امتحانات ہائیکورٹ میں چیلنج

آن لائن امتحانات ہائیکورٹ میں چیلنج

( ملک اشرف ) پنجاب یونیورسٹی کے زیر اہتمام کل پانچ اگست سے شروع ہونے والے بی اے کے آن لائن امتحانات کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا گیا ہے، عدالت  نے آن لائن امتحانات کے خلاف درخواست ناقابل سماعت قرار دے کر خارج کر دی۔

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس زمل اختر شبیر نے شفیق رحمان سمیت دیگر کی درخواست سماعت کی جبکہ پنجاب یونیورسٹی کی جانب سے لیگل ایڈوائزر ملک اویس خالد پیش ہوئے۔ درخواست گزار کی جانب سے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ پنجاب یونیورسٹی نے بی اے کے آن لائن امتحانات کے لئے نوٹفیکیشن جاری کررکھا ہے۔

آن لائن امتحانات کے لیے فی طالب علم ایک لاکھ روپے کے اخراجات درکار ہوں گے۔ آن لائن امتحانات کے لئے لیپ ٹاپ، یو پی ایس اور انٹرنیٹ سہولیات ضروری ہیں۔ موجودہ سہولیات کی ابھی تک مکمل دستیابی کے اقدامات نہیں ہوئے۔

درخواست گزار نے استدعا کی کہ عدالت پنجاب یونیورسٹی کے زیر اہتمام کل سے ہونے والے آن لائن امتحانات کا اقدام کالعدم قرار دے۔ پنجاب یونیورسٹی کے لیگل ایڈوائزر ملک اویس خالد نے درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ پنجاب یونیورسٹی نے کورونا وائرس سے حفاظتی اقدامات کے لئے آن لائن امتحان لینے کا فیصلہ کیا۔

پنجاب یونیورسٹی نے آن لائن کے ساتھ ساتھ مینوئل امتحانی طریقہ بھی برقرار رکھا ہوا ہے۔ جو امیدوار آن لائن امتحان نہیں دینا چاہتے وہ مینوئل طریقے سے دے سکتے ہیں۔ لیگل ایڈوائزر پنجاب یونیورسٹی نے دلائل دیتے ہوئے استدعا کی کہ درخواست کو ناقابل سماعت قرار دے کر خارج کیا جائے۔