لانگ جمپ کی ویڈیو وائرل ، ٹھٹھہ کے نوجوان کی قسمت جاگ اٹھی

لانگ جمپ کی ویڈیو وائرل ، ٹھٹھہ کے نوجوان کی قسمت جاگ اٹھی

سٹی 42: سوشل میڈیا پر لانگ جمپ کی ویڈیو وائرل ہونے پر ٹھٹھہ کے نوجوان کی قسمت کھل گئی اور وہ راتوں رات مشہور ہوگیا۔

ٹھٹھہ سے تعلق رکھنے والے22سالہ نوجوان آصف مگسی کی 11 موٹر سائیکلوں کے اوپر سے لانگ جمپ کی ویڈیو وائرل ہوئی تھی جس پر ملک بھر کے صارفین کی جانب سے اسے سراہا جارہا تھا۔ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد پاکستان ایتھلیٹیکس فیڈریشن کے صدر اکرم ساہی نے نوجوان آصف سے رابطہ کرکے اسے لاہور بلالیاہے۔صدر پاکستان ایتھلیٹکس فیڈریشن اکرم ساہی کا کہنا ہے کہ کوچز آصف کے ٹرائلز لیں گے۔

سوشل میڈیا پر آصف مگسی کی ویڈیو پر بعض صارفین نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ جمپ چار میٹر سے زیادہ نہیں ہے جس کو عام سکول کے بچے بھی باآسانی کر لیتے ہیں۔ تاہم پاکستان اتھلیٹیکس فیڈریشن کے صدر اکرم ساہی نے بتایا کہ وہ خود ایک اتھلیٹ رہ چکے ہیں اور موٹر سائیکلوں کی تعداد اور ان کے درمیان فاصلے کو دیکھتے ہوئے یہ تقریباً سات میٹر لمبی چھلانگ ہے جس کو مزید تربیت کے بعد عالمی سطح کے کھلاڑیوں کے مدمقابل لایا جاسکتا ہے، دراصل یہ سٹائل عالمی سطح کے تربیت یافتہ کھلاڑیوں کا ہے جبکہ آصف فی الحال اتھلیٹکس کی دنیا میں ایک خام ٹیلنٹ ہیں۔

 اکرم ساہی نے مزید کہا کہ وہ آصف کو ٹھٹہ سے جلد لاہور تربیت کے لیے بلائیں گے۔ اس دوران انہوں نے کھلاڑی کو تنبیہ کی کہ جب تک وہ لاہور نہیں پہنچ پاتے تب تک کسی قسم کے مزید سٹنٹ (کرتب) کرنے سے گریز کریں۔

آصف شادی شدہ ہیں اور ایک بیٹی کے باپ بھی ہیں۔ آصف مگسی کا کہنا ہے کہ ان کو پاک فوج میں جانے کا شوق تھا لیکن گھر کے خراب مالی حالات کی وجہ سے وہ آٹھویں کے بعد پڑھ نہیں پائے۔آصف نے بتایا کہ میں ایک فش فارم پر مچھلیاں بیچنے کا کام کرتا تھا۔ دن کے وقت یوں ہی تالاب کے اوپر چھلانگیں لگاتا رہتا تھا۔ اس کے بعد شوق بڑھتا گیا اور میں بڑی سے بڑی چھلانگ لگانے کا چیلنج قبول کرتا گیا۔انہوں نے کہا کہ ان کی شروع سے خواہش ہے کہ وہ پاکستان کا نام روشن کریں۔

ایک خبر رساں ادارے سے بات کرتے ہوئے مگسی کا کہنا تھا کہ وہ مختلف ٹی وی چینلز کے ساتھ انٹرویوز میں مصروف ہیں۔ ایک ہفتے پہلے تک آصف ایک عام ٹک ٹاک استعمال کرنے والا لڑکا تھا لیکن ان کو معلوم نہیں تھا کہ قسمت ان پر بہت جلد مہربان ہونے والی ہے۔میں نے ایک ہفتے پہلے اس خیال سے سٹنٹ کیا تھا کہ شاید کسی دن اولمپک کھیلوں کے لیے منتخب ہو جائوں۔ لیکن آج خدا جانے کیسے مجھے اچانک موبائل پر کالز موصول ہونے لگیں کہ میں مشہور ہوگیا ہوں۔