آٹا بحران، بزدار حکومت نے ہاتھ کھڑے کر دیئے

آٹا بحران، بزدار حکومت نے ہاتھ کھڑے کر دیئے

ڈیفنس (علی اکبر) صوبائی وزیرخوراک عبدالعلیم خان نے کہا ہے کہ سندھ کے پاس ذخائر موجود مگر وہاں آٹے کو سبسڈائز نہیں کیا گیا، سندھ حکومت کے ساتھ کے بغیر سبسڈی والا آٹا نہیں دے سکیں گے۔

ڈیفنس میں اپنی رہائش گاہ پر گندم اور آٹے کی صورتحال کے حوالے سے پریس کانفرنس کرتے ہوئے عبدالعلیم خان نے سندھ حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا  مسئلہ سندھ سے ہے، رحیم یارخان میں 70 فلور ملز ہیں، ان ملوں کا سبسڈی آٹا سندھ میں جا رہا ہے، سندھ کے پاس وافر ذخائر موجود ہیں مگر وہاں آٹا سبسڈائز نہیں کیا جارہا۔

صوبائی وزیرخوراک  نے کہا پنجاب پورے پاکستان کا بوجھ نہیں اٹھا سکتا، سندھ حکومت سے اپیل ہے خدارا! آپ بھی سبسڈائزڈ آٹا دیں، سبسڈائز آٹا پنجاب میں ریٹ کے مطابق بیچا جا رہا ہے۔ 1475 روپے من میں فلور ملز کو گندم دی جا رہی ہے تاکہ20 کلو آٹے کا تھیلا  860 روپے میں بیچا جائے، کے پی کے میں بھی آٹا فراہم کیا جا رہا ہے۔

عبدالعلیم خان نے کہا  آٹے پرسبسڈی کا طریقہ کار تبدیل کرنے جا رہے ہیں، آٹے کا سستا ہونا بہت ضروری ہے۔

 

دوسری جانب وفاقی وزیر اطلاعات سینیٹر شبلی فراز کا کہنا ہے کہ گندم کی قلت کی ذمہ دار سندھ حکومت ہے جس نے گندم نکالی نہیں ہے۔

 شبلی فراز کا کہنا تھا کہ ہمارے ملک میں سب سے زیادہ استعمال آٹا ہوتا ہے، گندم کی قیمت میں مختلف وجوہات کی بنا پر اتار چڑھاؤ ہوتا ہے، گزشتہ کچھ ہفتوں سے آٹے کی قیمت مختلف صوبوں میں الگ الگ ہیں۔

شبلی فراز کا کہنا تھا کہ پنجاب اور سندھ دونوں صوبے گندم کی پیداوار کرتے ہیں، حکومت سندھ اپنے حصے کی گندم نہیں دے رہی، سندھ کے اپنے حصے کی گندم نہ دینے سے گندم مہنگی ہو رہی ہے جب کہ پنجاب سندھ کی بہ نسبت کافی سستا آٹا دے رہا ہے۔