سپر اسٹار ایکٹرس کی ایک بیوروکریٹ سے عشقیہ شادی

سپر اسٹار ایکٹرس کی ایک بیوروکریٹ سے عشقیہ شادی

خاور نعیم ہاشمی 

میری مبین ملک سے پہلی ملاقات  پیپلز پارٹی والے مشہور و معروف منور انجم نے کرائی تھی،  مبین  ایک کاروبار میں منور انجم کا پارٹنر بھی  تھا، مبین ملک،بہت جوان اور خوبصورت شخص تھا، ککے زئی خاندان سے تعلق تھا، لباس پہننے کا سلیقہ بھی خوب جانتا تھا، لبوں پر ہمیشہ مسکراہٹ رقصاں رہتی،محکمہ انکم ٹیکس کا اعلیٰ افسر تھا ،لیکن اس کی کرپشن کہانی کبھی نہیں سنی تھی،ایک دن منور انجم نے دھماکے دار انکشاف کیا کہ مبین ملک نے  ٹاپ  ہیروئن انجمن سے شادی کر لی ہے اور اس شادی کی وجہ انجمن کا مبین ملک سے والہانہ عشق بنا، میری اطلاعات کے مطابق انجمن ملتان کے ایک زمیندار کی منکوحہ تھی، اور سلطان راہی سے اس کے تعلق کی کہانیاں بھی زبان زد عام تھیں، کچھ اور باتیں بھی جو لکھی نہیں جا سکتیں

منور انجم نے  میرے استفسار پر بتایا کہ اس زمیندار سے تو انجمن کو طلاق ہوئے تو ایک عرصہ ہو گیا ہے ،  زمیندار سےبیٹا انجمن کی تحویل میں ہی ہے وہ اسے ایچی سن میں پڑھا رہی ہے۔ میں یہ خبر سن کر خاموش ہوگیا، سوچا چلو، اسی بہانے انجمن سے ملاقات ہی ہوجایا کرے گی، بھابی ہی کہنا پڑے گا ناں، کہہ لیا کریں گے،،،  میں بھی عاشقان  انجمن کلب کے ممبران میں شامل تھا، لیکن مبین ملک کبھی انجمن کو ملوانے میرے پاس نہ آیا

شادی کے کچھ مہینوں کے بعد  مبین ملک نےکبھی کبھار میرے پاس آنا شروع کر دیا.ان ملاقاتوں کے دوران میری کبھی مبین سے انجمن کے بارے میں کوئی بات نہ ہوئی، میں بات کرتے ہوئے اس لئے بھی گھبراتا تھا کہ کہیں کسی لمحے میری زبان نہ پھسل جائے، کیونکہ میں انجمن کے بارے میں بہت سارے سیکرٹس جانتا تھا، وقت نے گزرنا ہوتا ہے سو وہ اپنی روایتی تیزی سے گزرتا گیا، ایک دن وہ مجھے جنگ  لاہور کے دفتر کی سیڑھیاں نیچے اترتا ہوا نظر آیا تھا لیکن میں نے اسے اوپر آنے کی دعوت یہ سوچ کر نہیں دی تھی کہ میرے منہ سے کوئی غلط بات نہ نکل جائے۔

اس دور سے مبین ملک کی موت تک کئی کہانیوں نے جنم لیا لیکن میں آج کے کالم میں اختصار سے اس دن تک کاذکر کروں گا جب میں اس کی موت پر آخری مرتبہ اس کے گھر گیا تھا، اس ک کی موت کے بعد ایک دو  بار انجمن نے کھانے پر اپنے گھر آنے کی دعوت دی اور یہ وعدہ بھی کیا کہ وہ کھانا اپنے ہاتھوں سے بنائے گی لیکن میں نہ جا سکا تھا۔

ایک دور ایسا بھی آیا تھا جب لوگ مجھے اپنے خانگی معاملات اور جھگڑوں میں منصف بنا لیا کرتے تھے، کوئی بھی مقدمہ ،، میری عدلت ،، میں آتا، میں بلا سوچے سمجھے سماعت کے لئے منظور کرلیتا،

کچھ عرصے بعد منور انجم نےمبین ملک اور ایک تیسرے نا معلوم نوجوان کے ساتھ  روزانہ میرے پاس آنا  شروع کر دیا،  پتہ یہ چلا کہ انجمن اور مبین میں سخت لڑائی شروع ہو چکی ہے، منور انجم چاہتا ہے کہ میں ثالث بن کر دونوں میں صلح کرا دوں، کیونکہ یہ ان کے بچوں کے مستقبل کا بھی سوال ہے

مبین ملک سے میری علیک سلیک تو پہلے سے ہی تھی، مجھے یاد آیا 1990    میں جن دنوں میں جنگ  لندن  میں کام کر رہا تھا  مبین انجمن کے ساتھ ہمارے آفس بھی آیا تھا  لیکن مجھے ملنے نہیں۔اس نے بیوی کے ساتھ راہداری میں چلتے چلتے صرف ہاتھ ہلا کر مجھے ہیلو کہا تھا

انجمن سے میری شناسائی 1978  میں اداکار محمد علی صاحب نے کرائی تھی، ہم نے نعیم ہاشمی میموریل کونسل کے بینر تلے ایم اسماعیل فلم ایوارڈز کا سلسلہ شروع کیا تو انہی دنوں انجمن کی پہلی فلم،، وعدے کی زنجیر،، ریلیز ہوئی تھی، علی بھائی نے تجویز کیا کہ انجمن کو حوصلہ افزائی کا ایوارڈ ملنا چاہیئے، ان کی یہ تجویز جیوری نے منظور کر لی ۔انجمن کا پہلا مکان گلبرگ میں علی بھائی کے گھر کے قریب ہی تھا

 مجھے یاد آ رہا ہے کہ لندن میں مبین ملک نے مجھے فون پر  اپنے گھر ڈنر کی دعوت بھی دی  تھی ، اس کا کہنا تھا کہ برطانوی پارلیمنٹ کے بہت سے ایم پیز بھی اس ڈنر میں آ رہے ہیں، مبین لندن میں انجمن  سمیت مستقل سکونت اختیار کرچکا تھا ، انجمن نے وہاں اس کی بیٹی کو بھی جنم دیا تھا،

 میں رات آٹھ بجے کے قریب مبین ملک کے گھر جانے کے لئے روانہ ہوا تھا، راستے میں مسرت شاہین کا گھر آتا تھا، اس سے بھی گہری دوستی تھی، مسرت شاہین نے مجھے راستے میں کیچ کرکے وہاں جانے سے روک دیا تھا، مسرت شاہین نے ٹیلی فون پر انجمن کا نمبر ڈائل کرکے اسے صوفے کے نیچے چھپا دیا اور پھر انجمن کے ماضی پر گفتگو شروع کر دی، میں بھی اس کی ہاں میں ہاں ملاتا رہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہم بات کر رہے تھے ۔ منور انجم کے، مبین ملک اور ایک نامعلوم نوجوان کے ہمراہ  روزانہ میرے پاس آنے کی ۔منور انجم کا کہنا تھا کہ مبین اور انجمن ایک دوسرے کے خلاف تھانوں کچہریوں میں جنگ کر رہے ہیں، میں نے مبین ملک سےپوچھا کہ وہ کیا چاہتا ہے؟ اس کا جواب تھا وہ  جان چھڑانا چاہتا ہے، مبین کے ساتھ آنے والے نوجوان نے لقمہ دیا کہ ، کوئی ایکٹرس کبھی اچھی بیوی نہیں بن سکتی ، میں نے پوچھا کہ ، بچوں کا کیا بنے گا؟ نامعلوم نوجوان کا جواب تھا کہ ایکٹرس کے بچے ایکٹرس کے پاس ہی رہنے چاہئیں۔  اس ایشو پر ہماری کئی ملاقاتیں ہوئیں، میرا خیال یہی تھا کہ دونوں میں صلح ہوجائے تو بہتر ہے۔ بسا اوقات وہ مجھ سے متفق بھی ہوجاتا مگر اسی لمحے اس کے ساتھ آنے والا نامعلوم نوجوان ایکٹرس ازم کے خلاف لیکچر دینے لگتا، اور خاص طور پر مجھے متوجہ کرکے کہتا کہ آپ کو فلم ایکٹرس کی نفسیات کا پتہ ہی نہیں ،آپ خواہ مخواہ ،،،ماہر ایکٹرس،،، بن رہے ہیں؟ ایک دن میرا دماغ گھوم گیا ، میں نے انتہائی غصے میں مبین اور منور سے سوال کیا یہ آدمی ہے کون ؟ آپ لوگوں نے میرا اس سے کبھی مکمل تعارف ہی نہیں کرایا کبھی،

دونوں نے یک زبان جواب دیا،،یہ ارشد ہے، انجمن کا  سگا چھوٹا بھائی۔